آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ راجپوتشعر و شاعری

تھک ہار کے بیٹھی ہوں

ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل

تھک ہار کے بیٹھی ہوں مجھے صبر سکھادے
خاموش دعاؤں میں کوئی حرفِ شفا دے

ویران سا دل ہے کوئی آ کر اِسے چُھوۓ
پھر سے مرے سینے میں کوئی پیار جگا دے

ہے جرم اگر ہجر کی چاہت کو بچانا
تو مجھ کو بھی دنیا کوئی پتھر کی سزا دے

اک خواب کی مانند ہے سب کچھ مرے اندر
تُُو آئے تو شب ہجر کی کچھ رنگِ حنا دے

تقدیر کا لکھا بھی پڑھا، صبر کیا پر
اے دل! نہ مجھے اور کوئی زخم نیا دے

دل بیٹھ سا جائے تو سنبھالے کوئی آ کر
آواز نہ دے، صرف نگاہوں سے دُعا دے

احساس کی مٹی میں دبی خیر کی خوشبو
دُنیا نہ اُسے ڈھونڈ، نہ اُس کو تُو ہوا دے

اک شاخِ شکستہ ہوں، ہواؤں سے گلہ کیا
اے کاش کوئی مجھ کو سنبھلنے کی دعا دے

ثوبی یہ محبت ہے کوئی کھیل نہیں ہے
جو چھوڑ گیا مجھ کو اسے وقت سزا دے

ثوبیہ راجپوت

post bar salamurdu

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button