تھک ہار کے بیٹھی ہوں مجھے صبر سکھادے
خاموش دعاؤں میں کوئی حرفِ شفا دے
ویران سا دل ہے کوئی آ کر اِسے چُھوۓ
پھر سے مرے سینے میں کوئی پیار جگا دے
ہے جرم اگر ہجر کی چاہت کو بچانا
تو مجھ کو بھی دنیا کوئی پتھر کی سزا دے
اک خواب کی مانند ہے سب کچھ مرے اندر
تُُو آئے تو شب ہجر کی کچھ رنگِ حنا دے
تقدیر کا لکھا بھی پڑھا، صبر کیا پر
اے دل! نہ مجھے اور کوئی زخم نیا دے
دل بیٹھ سا جائے تو سنبھالے کوئی آ کر
آواز نہ دے، صرف نگاہوں سے دُعا دے
احساس کی مٹی میں دبی خیر کی خوشبو
دُنیا نہ اُسے ڈھونڈ، نہ اُس کو تُو ہوا دے
اک شاخِ شکستہ ہوں، ہواؤں سے گلہ کیا
اے کاش کوئی مجھ کو سنبھلنے کی دعا دے
ثوبی یہ محبت ہے کوئی کھیل نہیں ہے
جو چھوڑ گیا مجھ کو اسے وقت سزا دے
ثوبیہ راجپوت








