اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر جلال آبادی

جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی

قمر جلال آبادی کی ایک اردو غزل

جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی

اُتاری جاتی ہے ان کی نظر گذر پھر بھی

کوئی ٹھکانہ ہے صیّاد بدگمانی کا

قفس میں قید ہوں کاٹے ہیں میرے پر پھر بھی

ملال کر دلِ مضطر نہ ان کے جانے کا

خدا نے چاہا تو آئیں گے وہ ادھر پھر بھی

وہ کہہ رہے ہیں کل آئیں گے ہم بتا تو دیا

لگا رکھی ہے یہ تم نے اگر مگر پھر بھی

ہزار عیش قفس میں سہی وہ بات کہاں

کہ اپنا گھر ہوا کرتا ہے اپنا گھر پھر بھی!

قمر یہ مانا کہ تم احتیاط برتو گے !

کسی کے رخ سے جو ٹکرا گئی نظر، پھر بھی؟

قمر جلال آبادی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button