آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفقیہ حیدر

وہ عام بھی ہوں تو لگتا ہے خاص ہوتے ہیں

فقیہ حیدر کی ایک اردو غزل

وہ عام بھی ہوں تولگتا ہے خاص ہوتے ہیں
اداس لوگ ہمیشہ اداس ہوتے ہیں

ہر ایک جسم پہ جچتا نہیں لبادہ ء عمر
کئی لباس میں بھی بے لباس ہوتے ہیں

ہمارے ساتھ ہی جلتے ہیں اور بجھتے ہیں
چراغ کتنے اذیت شناس ہوتے ہیں

جنوں سے اہل ِ جنوں کا ہی خون جلتا ہے
حواس والے ہی تو بد حواس ہوتے ہیں

وہ آنکھ اوروں میں ہی بانٹتی ہے ساری شراب
ہماری میز پہ خالی گلاس ہوتے ہیں

کسی کو زخم ہی لاتے ہیں زندگی کی طرف
کسی کو زہر بھرے سانس راس ہوتے ہیں

کلیسا جاتے ہیں عیسائی لڑکیاں لڑکے
زبور پڑھتے گلوں میں کراس ہوتے ہیں

فقیہ حیدر

post bar salamurdu

فقیہ حیدر

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button