- Advertisement -

نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو

حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل

نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو

جو تیرے دل میں ہے اس بات پر نہیں آئے

وفائے عہد ہے یہ پا شکستگی تو نہیں

ٹھہر گیا کہ مرے ہم سفر نہیں آئے

نہ چھیڑ ان کو خدا کے لئے کہ اہل وفا

بھٹک گئے ہیں تو پھر راہ پر نہیں آئے

ابھی ابھی وہ گئے ہیں مگر یہ عالم ہے

بہت دنوں سے وہ جیسے نظر نہیں آئے

کہیں یہ ترک محبت کی ابتدا تو نہیں

وہ مجھ کو یاد کبھی اس قدر نہیں آئے

عجیب منزل دل کش عدم کی منزل ہے

مسافران عدم لوٹ کر نہیں آئے

حفیظ کب انہیں دیکھا نہیں بہ رنگ دگر

حفیظؔ کب وہ بہ رنگ دگر نہیں آئے
حفیظ ہوشیارپوری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل