آصف الدولہاردو غزلیاتشعر و شاعری

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے

آصف الدولہ کی ایک اردو غزل

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے
تو آ کے مل نہ مل یہ ترا اختیار ہے

جس جس کے پاس دوستو جس جس کا یار ہے
بہتر چمن سے گھر میں اسی کے بہار ہے

تم زخم دل کی میرے خبر پوچھتے ہو کیا
تیر نگاہ دل کے تو اب وار پار ہے

گر دشمنی پہ دوست نے باندھی مرے کمر
دشمن ہے اب جو کوئی مرا دوست دار ہے

لگتی نہیں پلک سے مری اب ذرا پلک
آنے کا اس کے جب سے مجھے انتظار ہے

اے شہسوار اس کو بھی کر لے تو اب شکار
یہ صید دل بھی عمر سے امیدوار ہے

یہ کچھ تو حال تیرے دوانے کا اب ہوا
جیدھر کو جاوے آہ اسے مار مار ہے

اے گل تجھے عزیز ہوں رکھتا میں اس لیے
یعنی کہ تجھ میں ایک رمق بوئے یار ہے

یہ کس کے دل کو چھین کے کرتے ہیں پائمال
ان ظالموں کا آہ یہی کاروبار ہے

آصفؔ خدا کے واسطے مت دے بتوں کو دل
یہ وہ ہیں جن کے قول کا کیا اعتبار ہے

آصف الدولہ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button