آپ کا سلاماردو غزلیاتساحل سلہریشعر و شاعری

پرندوں کو مٹایا جا رہا ہے

ایک اردو غزل از ساحل سلہری

پرندوں کو مٹایا جا رہا ہے
کہیں جنگل جلایا جا رہا ہے

بہار آئے گی میرے شہر میں پھر
یہی باور کرایا جا رہا ہے

سمندر روشنی دینے لگا ہے
مجھے ناؤ بنایا جا رہا ہے

یہاں ہر شہر ہی مقتل بنا ہے
لہو نا حق بہایا جا رہا ہے

ابھی رخت سفر باندھا نہیں میں
قدم ہے لڑکھڑایا جا رہا ہے

ساحل سلہری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button