آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

تمام خوابوں کی تعبیر

ایک اردو غزل از رشید حسرت

تمام خوابوں کی تعبیر میرے ہاتھ پہ رکھ

ہٹا دے تیرگی تنویر میرے ہاتھ پہ رکھ

میں تھوڑی دیر میں اک جرم کرنے والا ہوں

تو ایسا کر مری تعزیر میرے ہاتھ پہ رکھ

میں کتنے روز سے خط کی مہک کو ڈھونڈتا ہوں

سو جھوٹ موٹ کی تحریر میرے ہاتھ پہ رکھ

بہت سے لوگوں کے حق تُو دبا کے بیٹھا ہے

مشقتوں کا صلہ میر! میرے ہاتھ پہ رکھ

نہیں سدھرنا تو پھر ساری کوششیں بیکار

تو چاہے جتنی بھی تفسِیر میرے ہاتھ پہ رکھ

تو میرا دوست ہے شعروں کو میرے دیکھ ذرا

جو ہو سکے ہے تو تاثیر میرے ہاتھ پہ رکھ

مرا وجود تو یوں بھی ہے تیرے ایماء پر

مجھے تو ڈال کے زنجیر میرے ہاتھ پہ رکھ

معاملات ترے ساتھ طے کروں گا میں

مگر تُو پہلے تو کشمیر میرے ہاتھ پہ رکھ

تجھے بھی ہو مری بے کیفیوں کا اندازہ

کبھی تو دل کو ذرا چِیر میرے ہاتھ پہ رکھ

کہانیاں نہ رہیں اب، نہ رنگ آمیزی

محبتوں کی اساطیر میرے ہاتھ پہ رکھ

رشیدؔ اس کے عوض جھونپڑی نہ چھوڑوں گا

بھلے تو ساری ہی جاگیر میرے ہاتھ پہ رکھ

رشید حسرت، کوئٹہ

٠٧، دسمبر ٢٠٢٥

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button