آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتسیّدہ منوّر جہاں منوّر

جب ساتھ چراغوں کے، پرچھائیاں چلتی ہیں

ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر

جب ساتھ چراغوں کے، پرچھائیاں چلتی ہیں
ہر موڑ پہ پھر اُن کی، شکلیں بھی بدلتی ہیں

کب وصل کا سورج بھی، ایسے میں نکلتا ہے
جب رات کے سانچے میں، تنہائیاں ڈھلتی ہیں

آغاز تَعَشُّق میں، دیکھا ہے یہی اکثر
گلشن میں محبّت کے، آشائیں ٹہلتی ہیں

اک جشنِ بہاراں پھر، ہر شاخ پہ ہوتا ہے
اوڑھے ہوئے گھونگھٹ کو، جب کلیاں نکلتی ہیں

تیرا بھی حسیں وعدہ، کچھ ایسے پھسلتا ہے
پتّوں سے حسیں بوندیں، جس طرح پھسلتی ہیں

مظلوم کے نالوں میں، تاثیر ہے پوشیدہ
پتھر کی چٹانیں بھی، آہوں سے پگھلتی ہیں

دل میں اے منوّر ہیں، کچھ یوں ہی تمناّئيں
موجیں کہیں دریا کی، جس طرح مچلتی ہیں

سیّدہ منوّر جہاں منوّر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button