- Advertisement -

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل

قمر رضا شہزاد کی اردو غزل

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل

زیادہ خوف زدہ ہے تو اس مکاں سے نکل

ہمارے دل کا تعلق نہیں زمانے سے

سو اپنی خواہش دنیا اٹھا یہاں سے نکل

ترے جمال کی لو تیرے بعد رہ جائے

دیے جلاتا ہوا اس جہان جاں سے نکل

میں رب کے نور سے محو کلام ہوں سر شام

سوئے چراغ دعا تو بھی درمیاں سے نکل

اب اس کے بعد قیامت ہے تو بھی اے شہزادؔ

دعائیں پڑھتا ہوا شہر بے اماں سے نکل

قمر رضا شہزاد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل