- Advertisement -

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

ساغر صدیقی

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے

پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دیے

نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو رو دیے

غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیے

اڑتا ہوا غبار سرِ راہ دیکھ کر

انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دیے

بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے

سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دیے

رنگِ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی

ساغر ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دیے

ساغر صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ساغر صدیقی