- Advertisement -

تعبیر دیکھی , نیند کی الجھن سے ڈر گیا

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

تعبیر دیکھی , نیند کی الجھن سے ڈر گیا
آنکھوں میں ٹھہرے خواب کا چہرہ اتر گیا

آنسو چھپائے رات اندھیروں کو سینچتا
دیوار کو پھلانگ کے مزدور گھر گیا

پہلے میں ہچکچایا سمندر کو دیکھ کر
ناؤ بنائی چپو چلایا گزر گیا

آواز باندھ آیا تھا جلتے چراغ سے
لیکن فقیر شہر نہ بارِ دگر گیا

یعنی مسافتوں کی اذیت نگل گئی
یعنی سفر کیساتھ ہی رخت- سفر گیا

شاخوں نے سانس روک لی ہجرت کے خوف سے
روئے پرند , پیڑ ثمر بار مر گیا

ارشاد نرم ہاتھ سے مسلا گیا گلاب
اور پھر سلیقگی سے بھروسہ بکھر گیا

ارشاد نیازی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عثمان اقبال خان کی ایک اردو غزل