- Advertisement -

زندگی سفر میں ہے اور اس کے پاؤں میں

ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد

زندگی سفر میں ہے

زندگی سفر میں ہے اور اس کے پاؤں میں
آبلے پڑے ہیں جو ان سے رس رہا پانی
دشتِ نارسائی کو دے رہا ہے سیلا پن

قہقہوں میں سسکی ہے اور جینا رسکی ہے
پھر بھی لب ہنسیں گے اورآنکھ کے کناروں سے
دل کی راہ گزاروں تک بڑھ گیا ہے گیلا پن

تشنگی میں زندہ تھا تھر کا وہ پرندہ تھا
قید سے نکل کر بھی پھڑ پھڑا کے گرتا ہے
شام ہونے والی ہے گھل رہا ہے نیلا پن

قتل عام جاری ہے جگنوؤں کا جنگل میں
اور ہوائیں پیاسی ہیں خون چوس لینے سے
اس گلابی تتلی میں ڈھل رہا ہے پیلا پن!

سلمیٰ سیّد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل