اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے

ظلمتوں میں‌کرن سوالی ہے

حادثے لوریوں کا حاصل ہیں

وقت کی آنکھ لگنے والی ہے

آئینے سے حضور ہی کی طرح

چشم کا واسطہ خیالی ہے

حسن پتھر کی ایک مورت ہے

عشق پھولوں کی ایک ڈالی ہے

موت اک انگبیں کا ساغر ہے

زندگی زہر کی پیالی ہے

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button