- Advertisement -

یہ آئینہ جو صاف ہے وہ اور بات ہے

رینو نیّرؔ کی اردو غزل

ये आइना जो साफ़ है वो और बात है
मेरा जो एतराफ़ है वो और बात है

یہ آئینہ جو صاف ہے وہ اور بات ہے
میرا جو اعتراف ہے وہ اور بات ہے

तुम से मुहब्बतें हैं अलग ही मुआमला
तुम से जो इख़्तिलाफ़ है वो और बात है

تم سے محببتیں ہیں الگ ہی معاملہ
تم سے جو اختلاف ہے وہ اور بات ہے

दिल का या आँख का है भरम तोड़ना गुनाह
तुम को गुनह: मुआफ़ है वो और बात है

دل کا یا آنکھ کا ہے بھرم توڑنا گناہ
تم کو – گنہ معاف ہے وہ اور بات ہے

सब इक तरफ हैं, दोस्ती, रिश्ते, तअल्लुक़ात
पर दिल का जो तवाफ़ है वो और बात है

سب اک طرف ہیں ، دوستی، رشتے، تعلقات
پر دل کا جو طواف ہے وہ اور بات ہے

मंज़िल से बेदिली का है कुछ और मसअला
इक रास्ता ख़िलाफ़ है वो और बात है

منزل سے بے دلی کا ہے کچھ اور مسئلہ
اک راستہ خلاف ہے وہ اور بات ہے

رینو نیّرؔ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
رینو نیّرؔ کی اردو غزل