اردو غزلیاتذوالفقار عادلشعر و شاعری

یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا

ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل

یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ہٹا رہا ہوں معاف کرنا

بغیر اجازت میں دن کو بستی میں لا رہا ہوں معاف کرنا

زمین بنجر تھی تم سے پہلے پہاڑ خاموش دشت خالی

کہانیو میں تمہیں کہانی سنا رہا ہوں معاف کرنا

کچھ اتنے کل جمع ہو گئے ہیں کہ آج کم پڑتا جا رہا ہے

میں ان پرندوں کو اپنی چھت سے اڑا رہا ہوں معاف کرنا

یہ بے یقینی عجب نشہ ہے یہ بے نشانی عجب سکوں ہے

میں ان اندھیروں کو روشنی سے بچا رہا ہوں معاف کرنا

انہیں ستاروں کے سب لطائف سنا چکا ہوں ہنسی ہنسی میں

اور اب چراغوں سے اپنا دامن بچا رہا ہوں معاف کرنا

مجھے بتانے کا فائدہ کیا مکین کیا تھے مکان کیا ہیں

میں اس گلی سے نہ آ رہا ہوں نہ جا رہا ہوں معاف کرنا

ذوالفقار عادل

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button