اردو غزلیاتشعر و شاعریقتیل شفائی

اسے منا کر غرور اس کا بڑھا نہ دینا

ایک اردو غزل از قتیل شفائی

اسے منا کر غرور اس کا بڑھا نہ دینا
وہ سامنے آئے بھی تو اس کو صدا نہ دینا

خلوص کو جو خوشامدوں میں شمار کر لیں
تم ایسے لوگوں کو تحفتاً بھی وفا نہ دینا

وہ جس کی ٹھوکر میں ہو سنبھلنے کا درس شامل
تم ایسے پتھر کو راستے سے ہٹا نہ دینا

سزا گناہوں کی دینا اس کو ضرور لیکن
وہ آدمی ہے تم اس کی عظمت گھٹا نہ دینا

جہاں رفاقت ہو فتنہ پرداز مولوی کی
بہشت ایسی کسی کو میرے خدا نہ دینا

قتیلؔ مجھ کو یہی سکھایا مرے نبیؐ نے
کہ فتح پا کر بھی دشمنوں کو سزا نہ دینا

قتیل شفائی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button