آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعرینجمہ منصور

بجوکے

ایک اردو نظم از نجمہ منصور

میں نے تمہاری یاد کو
کوئل کی چونچ کے ساتھ باندھ کر
تمہاری جانب روانہ کر دیا
بدلے میں تم نے
اداسی کے بجوکے مجھے بھیج دیے
اب وہ چھوٹے بڑے بجوکے
میری تنہائی کے بخیے ادھیڑتے ہیں
میں اپنی خاموشی اور بےچینی
گٹھری میں باندھ کر
نظموں کے سرہانے رکھ دیتی ہوں

اور شانت ہو جاتی ہوں
اور تم ؟؟؟

نجمہ منصور

post bar salamurdu

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button