اردو غزلیاتشعر و شاعریمجید امجد

اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی

ایک اردو غزل از مجید امجد

اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی
تُجھ پر، تِری نِگاہ سے چُھپ کر نِگاہ کی

رُوحوں میں جَلتی آگ، خیالوں میں کِھلتے پھول
ساری صداقتیں کِسی کافر نِگاہ کی

جب بھی غمِ زمانہ سے آنکھیں ہُوئیں دوچار
مُنہ پھیر کر تبسّمِ دِل پر نِگاہ کی

باگیں کِھنچیں، مُسافتیں کڑکیں، فرس رُکے
ماضی کی رتھ سے کِس نے پَلٹ کر نِگاہ کی

دونوں کا ربط ہے تِری موجِ خِرام سے
لغزِش خیال کی ہو، کہ ٹھوکر نِگاہ کی

مجید امجد​

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button