آپ کا سلاماردو شاعریاردو نظمگلناز کوثر

چوراہے کا ڈھولچی

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

بے یقینی کے بے کل سمندر میں اُتری ہوئی

دو سیہ کشتیاں

موج در موج پھیلے ہوئے پانیوں میں

سلگتی ہوئی

دو عجب بستیاں

سُونی آنکھوں میں دو

ڈولتی پُتلیاں

ڈولتی پُتلیاں

عکس لہروں پہ محروم سی آس کا

خشک چہرے کی اُن سلوٹوں میں مچلتا ہوا

بے کراں انتظار

شہر کے اس حسیں موڑ پر

سانولی سوکھی ٹانگوں پہ رکھا ہوا

اک زمانے کا بار

خشک ہاتھوں میں تھامی ہوئی ایک امید

گاڑی کی آواز

جیسے کہیں

کوئی آ کے رُکا

اور تصور میں مہکی ہوئی

سوندھی روٹی کا چہرہ سا لہرا گیا

ڈھول پر تھاپ دیتے ہوئے کانپتے ہاتھ

اور اس طرف جھومتے لوگ آسودہ تن

رنگ اور روشنی میں نہائے بدن

کوئی کیسے سُنے

ڈھول کی تھاپ میں

لڑکھڑاتی، تڑپتی ہوئی سسکیاں

روشنی میں نہاتی ہوئی

بھوک سے بلبلاتی ہوئی

جان کی

آخری ہچکیاں

گلناز کوثر

گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button