- Advertisement -

عشق کی اقسام

ایک اردو کالم از علی عبد اللہ

"عشق کی اقسام”

قدیم یونانی فلسفے کیمطابق محبت کی درج ذیل اقسام ہیں۔

ا) اگیپی یا غیر مشروط عشق کو یونانی غیر فطری اور لوث عشق مانتے تھے۔ انکا ماننا تھا کہ اگیپی عشق انتہائی قدامت پسند ہونے کیوجہ سے طویل المدتی طور پر محسوس نہیں ہو سکتا۔ یونانیوں کے بعد اس عشق کی تعریف میں عیسائیوں نے اضافہ کیا جنہوں نے اسے عشقِ روحانی کہا اور حضرت عیسٰیؑ کی انسانوں تئیں محبت کو اگیپی عشق سے تعبیر کیا کہ "وہ لوگوں کی خوشی کیلئے جئے اور انکی عاقبت سنوارنے کیلئے بے لوث جان دیدی..”

ب) ایروز دوسری قسم ہے جو عشق کے دیوتا ایروز کے نام سے موسوم ہے۔ نام کی مناسبت سے رومانوی، پرجوش اور جنسی عشق ایروز کہلاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم یونانی ایروز سے خوفزدہ تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ کیونکہ انسانی بدن فانی ہے لہذا اسکی خواہشات بھی ایکدن ختم ہو جائیں گی اور وہ اسے خطرناک سمجھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کیونکہ یہ آگ کی طرح گرم اور جلتا ہوا احساس ہے اسلیئے یہ آگ ہی کی طرح جلد بُجھ جائے گا۔

ج) فیلیا یونانی عشق کی تیسری قسم ہے جسے ہم ‘افکشنیٹ لوو’ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مراد وہ محبت ہے جو ہم اپنے دوستوں عزیزوں کیلئے محسوس کرتے ہیں۔ یونانی اسے ایروز یعنی رومانوی محبت سے زیادہ اہم جانتے تھے کیونکہ انکے نزدیک یہ مساوی لوگوں کے درمیان بےغرض محبت ہے۔ افلاطون کے نزدیک "عشق میں جسمانی کشش شرط نہیں ہے” اسی لیئے فیلیا کو افلاطونی عشق یا پلیٹونک لوو بھی کہا جاتا ہے۔

د) فی لاوٹیا چوتھی قسم ہے جو اپنی ذات سے عشق کیساتھ منسوب ہے۔ فی زمانہ اپنی ذات سے محبت کو نرگسیت اور کمینے پن سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ یونانی ایسا بالکل نہیں سمجھتے تھے۔ انکے نزدیک اپنی ذات سے محبت کرنا منفی صفت نہیں تھی بلکہ انکے نزدیک محبت دینا اور لینا دونوں صحتمند روجھانات تھے۔ انکا عقیدہ تھا کہ جو شخص خود سے محبت نہیں کرتا وہ کسی دوسرے سے بھی نہیں کر سکتا۔ انکے نزدیک ذات سے محبت نرم خوئی کی دلیل ہوتی ہے اور جیسے کسی دوسرے کیلئے محبت کے جذبات رکھنا احسن عمل ہے اسی طرح اپنی ذات سے محبت بھی ضروری ترین صفت ہے۔

ر) اسٹوریج پانچویں قسم ہے جس سے مراد جانے پہچانے رشتوں کی محبت ہے۔ جیسے فیلیا دوستوں کے درمیان بے غرض محبت ہے ویسے ہی اسٹوریج یہ قدرتی رشتوں یعنی ماں باپ اور بچوں کے درمیان جنم لینے والی محبت ہے۔ فیلیا کیطرح اس میں بھی جسمانی کشش نہیں ہے لیکن یہ مضبوط رشتوں میں قائم محبت ہے۔

ژ) پریگما یعنی ‘وقار’ عشق کی پانچویں قسم ہے۔ قدیم یونانیوں کے نزدیک ‘پائیدار محبت’ پریگما کہلاتی ہے۔ یہ ایروز یعنی جسمانی محبت کا تقریباً اُلٹ ہے۔ جیسے جسمانی محبت وقت کیساتھ ختم ہوتی جاتی ہے اسکے اُلٹ پریگما وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اور مضبوط ہوتی رہتی ہے۔ اس محبت میں زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی۔ اگر دو لوگ آپس میں تھوڑا برداشت کا مظاہرہ کریں تو اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ بوڑھے شادی شدہ جوڑوں میں ایک دوسرے کیلئے محبت اور تڑپ کا احساس پریگما محبت کا عملی نمونہ ہے۔

س) لُوڈس عشق کو آسان اردو میں زندہ دل یا چنچل محبت کہتے ہیں۔ اسکی مثال پہلے پیار میں پہلا لمس ہے۔ محبوب کو دیکھ کر آپکے سینے میں اینٹھن ابھرتی ہے۔ مسام کھڑے ہو کر آپکو محبوب کے قرب کا بھرپور احساس دلاتے ہیں۔ وہ جذبہ جب آپکا محبوب آپ سے الگ ہو رہا ہو اور آپ سامنے ہو کر اسے ذور سے بھینچ لیں لُوڈس کے زُمرے میں آتا ہے۔ علمِ طِبیعات کیمطابق اس محبت میں محب کے خون میں کوکین سے پیدا ہونے والے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ انسان خود کو سٹونڈ اور ہائی یعنی محبت کے نشے میں چُور محسوس کرتا ہے۔

ص) مینیا یا انماد عشق کی آٹھویں اور آخری قِسم ہے۔ جنون کی نمائیندہ ہے جو انسان کو غصے، حسد حتکہ قتل و غارت گری تک لیجا سکتی ہے اور قدیم یونانی مائتھالوجی میں اسکی واحد وجہ یہ ہے کہ عاشق ایروز اور لُوڈس میں توازن قائم نہیں رکھ پاتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
افسانہ از منشی پریم چند