آپ کا سلامآسناتھ کنولاردو غزلیاتشعر و شاعری

سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی نکلے نہیں ہیں

آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل

سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی نکلے نہیں ہیں
یہ بھی اچھا ہے کہ غم ہجر کے پھیلے نہیں ہیں

نیم خوابیدہ سی آنکھوں میں شبیہیں بنتے
میرے تکیے پہ پڑے خواب بھی سوتے نہیں ہیں

تو ہے سورج تیرا ڈھل جانا سمجھ میں آیا
بادلوں میں بھی چمتکار تو ہوتے نہیں ہیں

ورنہ تو وقت کا دریا ہی بہا لے جاتا
ہم تیری یاد کی پگڈنڈی پہ بیٹھے نہیں ہیں

میرے محبوب تیرا فیصلہ سر آنکھوں پر
ہم خفا خود سے ہیں تم سےتو روٹھے نہیں ہیں

ایک ہی پل میں تشت از بام ہوا رازِ دروں
ورنہ تو خوابوں میں بھی بندِ قبا کھلتے نہیں ہیں

کیا یہ ممکن ہے کہ اک زرہ پلٹ دے دنیا
ہم سبھی خاک بسر خاک سے ملتے نہیں ہیں

اپنی ہی ذات کے اہرام سے باہر نہ گئے
کیسے کہہ دیں کہ تماشے کو سمجھتے نہیں ہیں

ہم سے ٹکرا کے بھلا موت کو کیا لینا ہے
سینچ کے رکھتے ہیں غم دنیا کو دیتے نہیں ہیں

آسناتھ کنول

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button