- Advertisement -

قبروں کے بیچوں بیچ

ایک افسانہ از دیوندر ستیارتھی

قبروں کے بیچوں بیچ
دس لاکھ بھوک موتیں، پندرہ لاکھ، انیس لاکھ اور اس ہفتے کل جمع چوبیس لاکھ۔ اور ابھی تک اس بھیانک دُربھکشا کا زور بڑھ رہا تھا۔۔۔

گیتا کے دماغ میں اس وقت ایک لوری کے سُوَر گھوم رہے تھے، چھیلے گھومالو پاڑا جڑا لو، ورگی ایلو دیشے، بلبلے تے دھان کھے چھے خزانہ دیب کشو؟ یعنی بچہ سو گیا، محلہ شانت ہو گیا۔ دیش میں ورگی آگئے۔ بلبلوں نے دھان کھالیا۔ اب لگان کیسے دیں گے؟

چلتے۔چلتے اس نے یہ لوری اپنے ساتھیوں کو سنائی۔ جعفری سب کی طرف سے پوچھا۔۔۔ ’’یہ ورگی کیا بلا ہوتی ہے، گیتا؟‘‘

’’بھیانک ورگی! ناگپور کے راجا رگھوجی راو بھونسلے کے سپاہی ورگی کہلاتے تھے۔‘‘

علی امجد بولا۔۔۔ ’’میرا خیال ہے کہ اس لوری میں کسی مہتّوپورن گھٹنا کی اور اشارہ کیا گیا ہے۔‘‘

گیتا پہلے چپ رہی۔ پھر جب ساتھیوں کی پھس پھس بند ہوگئی، وہ بولی۔۔۔ ’’بنگلہ کی یہ لوری مجھے سدا اداس کرجاتی ہے۔ نواب علی وردی خاں کا زمانہ تھا۔ ورگی مراٹھے بنگال میں گھس آتے تھے۔ یہ وہ خونی ریچھ تھے، جس کے پنجوں سے سانس کھینچ کر لیٹی ہوئی جنتا بھی نہ بچ سکتی تھی۔ نواب اس سے بچنے کے لیے ہمیشہ انھیں اپنے خزانے سے دے دلاکر لوٹا دیتا۔ جنتا حیران تھی کہ اتنا لگان کہاں سے کچھ دے۔ بلبلیں الگ دھان کی بالیاں نوچتی رہتیں۔‘‘

جعفری کہہ اٹھا۔۔۔ ’’میرا تو خیال ہے کہ یہ بھی کوئی ورگی ہے!‘‘

’’بھیانک ورگی!‘‘ گیتا بولی۔

اور ورگیوں سے کہیں ادھک بھیانک تھا یہ در بھکش۔ آج جل پان کیے بنا ہی وہ اپنی اگلی منزل کی طرف چل پڑے تھے۔ آج وہ اداس بنگال کی اداس سڑک پراداس اداس چل رہے تھے۔

’’آگے پیٹے کچھو ڈال۔۔۔ آگے پیٹے کچھو ڈال۔۔۔‘‘ گیتا چلانے لگی۔ یعنی پہلے پیٹ میں کچھ ڈال لے۔ اگر وہ جل پان کر سکی ہوتی توشاید ایک فقیر کی یہ آوازیاد نہ آتی۔ اور پھر کلکتہ کے فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے بھوک کے ماروں کی چیخ پکاراس کے کانوں میں زندہ ہو اٹھی۔۔۔ سرونیشے شدھا۔۔۔! امار پوڑا کپال۔۔۔! ابھاگ کون دے کے جائے۔۔۔؟ پوچے مر۔۔۔! پوکا پڑے مر۔۔۔! ارتھارت سروناش کرنے والی بھوک! ہمارا جلاہوا بھاگیہ! ابھاگیہ کس طرف جائے؟ سڑ کر مر! کیڑے پڑ۔پڑ کر مر۔۔۔! سروناش کرنے والی بھوک نے ماتاؤں کی ممتا کو ختم کر ڈالا تھا اور وہ آج اپنی کوکھ کے بیٹوں تک کوگالیاں دے رہی تھیں۔۔۔ سڑ کر مر! کیڑے پڑ۔پڑ کرمر۔

ساتوں ساتھیوں کا یہ قافلہ اونٹوں کے بھٹکے ہوئے کارواں کی طرح اداس اداس چلا جا رہا تھا۔ سب سے آگے گیتا تھی۔ وہ کھادی کی سویت ساڑی اور لال بلاؤز پہنے تھی۔ اپنے کندھے پر اپنا سامان لٹکائے ہوئے اور ایک ہاتھ میں پارٹی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے جس کی لال زمین پر سویت ہتھوڑے اور ہنسیے کی آکرتی بھی مٹ میلی اور اداس ادس نظرآتی تھی، اس کے پیچھے جعفری اور پھر امجد، علی اختر اور بھوشن اور ان کے پیچھے پراشر اور کپور۔ سب کے تن پر قمیض اور نیکر۔ اپنے اپنے حصے کا سامان اٹھائے ہوئے۔ سب برابر کے کامریڈ، ہر طرح کے بھاوک ششٹاچار سے آزاد۔

ان کے پاس روٹیاں تو تھیں نہیں کہ لوک کتھا کے پتھک کی طرح انھیں کسی درخت کی گھنی چھایا میں کپڑا بچھا کر پھیلا دیتے اور باری باری اونچے سورمیں کہتے۔۔۔ ایک کھاؤں، دو کھاؤں، تین کھاؤں؟ یا سب کی کھا جاؤں؟

دھوپ اور بھی تیز ہو گئی تھی۔ ساتوں ساتھیوں کے چہرے پر وہ پتلی پتلی سوئیوں کی طرح چبھنے لگی۔ گرد اڑکر ان کے کپڑوں پرپڑ رہی تھی۔ سرمے کی سی دھول میلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور فضا میں مردہ مانس کی بد بو کچھ اس طرح سمائی ہوئی تھی کہ اس سے چھٹکارہ پانا اسمبھو پرتیت ہوتا تھا۔

اونچے اونچے ناریل اداس تھے۔ کٹہل اور مہوا کے درخت اداس تھے۔ آم اور شہتوت بھی اداس تھے۔ اور چھتیج بھی اداس اداس بلکہ دھواں دھواں نظر آتا تھا۔

ہوا کے جھونکے کے ساتھ مردہ مانس کی بدبو کا ریلا آکر گیتا سے ٹکرا گیا۔ اس نے سوچا، پرے جھاڑیوں میں کوئی لاش سڑ رہی ہوگی۔ ضرور یہ آدمی کے مردہ مانس کی بدبو تھی۔ لیکن گدھ یا چیل کا کہیں پتا نہ تھا۔ جھٹ اسے پرانی گالی یاد آگئی۔۔۔ ’’تور بھوڑا کے چیلے او کھابے نا!‘‘ یعنی تیری لاش کو چیلیں بھی نہ کھائیں گی۔

جعفری بولا۔۔۔ ’’کیا سوچ رہی ہو، گیتا؟‘‘

گیتا نے مڑ کر جعفری کی طرف دیکھا۔ وہ مسکراتو نہ سکی، چلتے۔چلتے بولی۔۔۔ ’’یہ معلوم ہوتا ہے یہاں پاس ہی کسی کی لاش سڑ رہی ہے۔‘‘

امجد کہہ اٹھا۔۔۔ ’’لاش ہوتی تو گدھ بھی ہوتے۔‘‘

علی اختر بولا۔۔۔ ’’گدھ نہ ہوتے تو چیلیں ہی ہوتیں۔‘‘

سڑتی ہوئی لاش سے کسی کو کچھ دلچسپی نہ تھی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ وہ ڈر گئے تھے کہ کہیں سڑتی ہوئی لاش مل گئی تو اسے ٹھکانے لگانے کی مصیبت آ کھڑی ہوگی۔

اپنے کالج میں یہ سب لڑکے خوبصورت لڑکیوں کا خاص دھیان رکھتے تھے۔ کپو ر کو خوب یاد تھاکہ جب گیتا ان کے کالج میں پہلے روز نام لکھانے آئی تھی تووہ کس طرح جھوم اٹھا تھا۔ اس نے اپنے سب دوستوں کا دھیان گیتا کی ساڑی کی طرف کھینچتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ ’’خلیج بنگال کی کل نیلاہٹ یہاں جمع ہوگئی ہے۔‘‘ اس وقت وہ یہ نہ جانتا تھا کہ ایک دن وہ بھوک موتوں کے آنکڑے جمع کرنے کے لیے گیتا کی قیادت میں ایک ٹولی بنا کر دیش کی سیوا کر پائیں گے۔

کپور یہ آنکڑے جمع کرتے کرتے پہلے اکثر جھنجلا کر رہ جاتا تھا۔ کسی بھوکے کے منھ میں کچھ ڈالا جائے یا پیاسے کے منھ جل کی بوند ٹپکائی جائے تو کچھ سیوا بھی ہو۔ وہ اپنے ساتھیوں سے واد وِواد چھیڑ دیتا۔ اس کا دماغ اس پگڈنڈی کا روپ دھارن کرلیتا جو دھول کی گہری دھند میں گم ہوگئی ہو۔ گیتا اپنے گلے پر زور ڈال کر کہتی۔۔۔ ’’یہ جو کھاتے ۔پیتے پرانتوں سے اب بنگال میں اناج آ رہا ہے، اس میں بھوک موتوں کے آنکڑے جمع کرنے کی تحریک ہی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ یہ جو اناج کی گاڑیاں دھڑا دھڑ کلکتے پہنچ رہی ہیں، یہ جو جگہ جگہ پرمفت لنگر کھولے جا رہے ہیں، ہمارے اس تحریک ہی کی مدد سے۔ سوچو تو ہمارے جیسی اور کتنی ٹولیاں بنگال کے قحط زدہ علاقوں میں یہ خدمت کر رہی ہوں گی اور کپور چپ ہو جاتا۔

’کمیونسٹ پارٹی جنتا کی پارٹی‘ گیتا نے نعرہ لگایا اور اس نے مڑ کر اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں ایک کنواری مسکان ناچ اٹھی۔ اور چلتے چلتے سب ساتھیوں نے مل کرنعرہ بلند کیا۔۔۔ کمیونسٹ پارٹی جنتا کی پارٹی۔ ان کی بھوک تو کسی طرح نہ دب سکی۔ لیکن یہ بھروسہ بھی کچھ کم نہ تھاکہ قلوپطرہ اداس نہیں رہی۔

کپو ر کواچانک ایک فرانسیسی لیکھک کا قول یاد آگیا۔۔۔ ’عورت کو ایڑی سے لے کر چوٹی تک پرکھنا چاہیے، جیسے مچھلی کو دم سے لے کر سر تک جانچی جاتی ہے۔‘ گیتا بھی ایک مچھلی ہی تو تھی جو بنگال کی کھاڑی سے اچک کر دھرتی کی لہروں پرتھرکنے لگی تھی۔ پر اگلے ہی پل اسے جھنجلاہٹ ہوئی۔ اسی لیکھک کا دوسرا وچار اسے جھنجھور رہا تھا۔۔۔ ’ہمارے سارے سنگھرش کا مقصد صرف آنند کی تلاش ہے۔ پر کچھ ایسے شوق ہیں جن کی موجودگی میں آنند کے حصول سے شرم آنی چاہیے۔ ‘ ٹھیک تو تھا۔ اسے اپنے اوپر شرم آنے لگی۔ قلوپطرہ لاکھ مسکرائے، یہاں عشق کا سوال ہی نہ اٹھنا چاہیے۔

پراشر بولا۔۔۔ ’’کہو کامریڈ کپور، کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

کپور نے گیتا کے ہاتھ میں موجود جھنڈے کی طرف دیکھا اور وہ بولا۔۔۔ ’’سوچنے کی بھی تم نے ایک ہی کہی، کامریڈ پراشر!‘‘

بھوشن کہہ اٹھا۔۔۔ ’’بھوک اور موت ہے۔ اس سے زیادہ آدمی اور کیا سوچ سکتا ہے؟‘‘

پھر پراشرنے جاپانی بمباری کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس پر سب ساتھیوں نے اپنا۔ اپنا غصہ نکال لیا۔ لیکن فضا برابر مردہ مانس کی بدبوسے بوجھل تھا۔

یہ ایک چھوٹی سی ریل گاڑی ہی تو تھی۔ اونگھتی چال سے چلی جارہی ریل گاڑی۔ لال جھنڈے والی گیتا اس ریل کے لیے انجن بنی ہوئی تھی۔ یہ سب اسی کی شکتی تھی کہ ریل گاڑی آگے بڑھی جا رہی تھی، نہیں توسب کے سب ڈبّے ڈھیر ہوجاتے۔۔۔ اچل مردوں کی طرح! کپور چاہتا تھا گیتا سے بھی آگے جاکراس ننھی۔منی ریل گاڑی کا انجن بن جائے اور اتنا دوڑے، اتنا دوڑے کہ سب ساتھی اس کے ساتھ دوڑنے پرمجبور ہوجائیں۔

گیتا نے مڑ کر جعفری سے پوچھا، ’’کیا سوچ رہے ہو، کامریڈ؟‘‘

جعفری بولا۔۔۔ ’’وہی جو کامریڈ کپور سوچ رہا ہے۔‘‘

اور اس گاڑی کے سب ڈبے قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔ تھوڑی دیر کے لیے وہ بھول گئے کہ انھوں نے سویرے سے جل پان تک نہیں کیا یا یہ کہ دھوپ پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہوگئی ہے۔

بھوک کے مارے گیتا کا برا حال تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک سرمہ دانی ہے۔۔۔ خالی سرمہ دانی! سرمہ کبھی کا ختم ہوگیا، نام اب بھی سرمہ دانی۔ اس نے مڑ کر کپور کی طرف دیکھا، جیسے کہہ رہی ہو۔۔۔ تم اپنی آنکھوں میں سرمے کی سلائی پھیرنا چا ہو بھی تو میں کہوں گی،معذرت چاہتی ہوں، کامریڈ کپور!

دھوپ انھیں جلا رہی تھی۔ منزل پر پہنچنا تو ضروری تھا۔ اوپر سے سب چپ تھے، بھیتر سے یہی چاہتے تھے کہ کسی کھیت کے میڑھ پر اپنے کو یوں پھیلا دیں جیسے کسی نے بڑی محنت سے کچھ کپڑے دھو کرڈال دیے ہوں۔ وہ دائیں بائیں دیکھتے جاتے تھے اور پھر سامنے نظر دوڑاتے، ابھی منزل دور تھی۔

سب پسینہ پسینہ ہو رہے تھے۔ دھول کے مارے الگ طبیعت پریشان تھی۔ کپور دھول کے بادل کو گھورتا ہوا پیچھے رہ گیا۔ دل ہی دل میں اس نے اسے چارپانچ اشلیل گالیاں دے ڈالیں۔ پھر وہ بھاگ کر اپنے ساتھیوں سے جاملا۔ ساتھ ساتھ چلنا کسی حد تک آسان تھا۔

پراشر بولا۔۔۔ ’’ذرا گیتا کی ساڑی کا تو ملاحظہ کیجیے۔‘‘

کپور نے شہہ دی۔۔۔ ’’جی، ہاں۔ بہت میلی ہو رہی ہے۔ شاید پوری اٹھنّی کے ریٹھے بھی اسے دھونے کے لیے ناکافی ہوں۔‘‘

بھوشن کہہ اٹھا۔۔۔ ’’ہر چیز مہنگی ہورہی ہے۔ مہنگی اور آسانی سے ہاتھ نہ لگنے والی۔ مہنگے ہی سہی، اتنے ریٹھے ملیں گے کہاں سے؟‘‘

کپور نے الٹ کر پھر کہا۔۔۔ ’’یہی تومیں کہ رہا ہوں۔ ذرا سوچو تو۔ لاہور کے انڈیا کافی ہاؤس میں، گیتا ایسی حالت میں چلی جائے تو یقین کرو اسے پاگل سمجھ کر نکال دیا جائے۔‘‘

گیتا ہنس کر دوہری ہوگئی۔ بولی۔۔۔ ’’یہ سچ ہے کامریڈ کپور۔ پر میں کہتی ہوں، ریٹھوں سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جل پان کی۔‘‘

کپور کہہ رہا تھا۔۔۔ ’’اچھا بولو،کیا کھاؤگی! گھی میں تلے ہوئے نمکین کاجو؟‘‘

گیتا جھنجلائی۔۔۔ ’’تم تو دل لگی کر رہے ہو۔‘‘

’’اپہاس کیسا؟ میں نے تمھاری دل پسند چیز کانام لے دیا ہے۔‘‘

’’پر گھی میں تلے ہوئے نمکین کاجوؤں سے زیادہ لذیذ ہوگی کرِیم کافی‘‘

’’کہاں ملے گی کریم کافی؟‘‘

’’کڑوی کسیلی کافی کریم کے ساتھ مل کر ایک نیا ذائقہ پیدا کر دیتی ہے۔‘‘

’’جی ہاں ‘‘

’’مجھے یاد آرہا ہے، کافی کی مشین کا اونگھتا اونگھتا شور میرے دماغ پر کبھی کبھی ہتھوڑے کی چوٹ کر جاتا ہے۔‘‘

’’او ہو! ہتھوڑے کی چوٹ!‘‘

ایک بار سب ساتھی شہر کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ میں الجھ گئے۔ پھر گفتگو کاسلسلہ شروع کرتے ہوئے گیتا بولی۔۔۔ ’’بنگال بھوکا ہے۔ ہم بھی تو کئی بار بھوکے رہ جاتے ہیں۔‘‘

بات کو پھر انڈیا کافی ہاؤس کی طرف گھوماتے ہوئے کپور بولا۔۔۔ ’’کافی سے زیادہ تمھیں میری بات میں رس آجاتا تھا۔ ، گیتا! تمھاری غیر حاضری میں میرے سامنے فیض کا وہ مصرعہ اجاگر ہو اٹھتا۔۔۔ ’گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام۔‘ ایش ٹرے میں سگریٹ کی راکھ گراتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا کہ میری زندگی اس سگریٹ کی طرح ہے اور وہ ایش ٹرے شمشان بھومی بن اٹھتی۔‘‘

خوب خوب! سب ساتھیوں نے ایک آواز میں کہا۔ گیتا نے خاموش داد دی اور پیچھے کو گھوم کر کپور کی طرف ایک مسکراہٹ پھینک دی۔

کہیں انسان کی شکل نظر نہ آتی تھی۔ ایک برساتی ندی کی خشک تلیٹی پار کرتے ہوئے گیتا سوچنے لگی۔۔۔ اچھی فصلیں نہ ہونے پر بھی یہ قحط! اس وقت اس کی آنکھوں میں ایک بڈھے کسان کا چتر گھوم گیا جس کی بھیانک گپھاؤں کی سی آنکھوں میں جھانک کر اس نے گہرے گہرے سایوں کے پیچھے دیکھ لیا تھا کہ کس طرح موت ایک ریچھنی کی طرح دبکی بیٹھی ہے۔ وہ فنکار ہوتی تو اسے اپنیشاہکارکی شکل میں دنیاکے سامنے رکھتی۔ اس کا نام تو بس ایک ہی ہو سکتا تھا۔۔۔ بھوکا بنگال!

معلوم ہوتا تھا کہ اب وہ کوئی بات چیت نہ کرسکیں گے۔ اس کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہو رہی تھی۔ اور جتن کرنے پر بھی وہ رینگ رینگ کر ہی چل سکتے تھے۔

ہوا بھی مریل سی معلوم ہوتی تھی۔ کہیں دو گھونٹ پانی بھی تو نہ مل سکتا تھا۔ کپور کو یہ خیال آیاکہ اپنے ساتھیوں پر نکتہ چینی شروع کر دے۔ بھاڑ میں جائے دیش پریم اور کالا ناگ ڈس جائے جنتا پارٹی کو۔ شیطان چاٹتا رہے بھوک موتوں کے آنکڑوں کو۔۔۔ چوبیس لاکھ ہوئے تو کیا اور تیس یا پینتیس لاکھ ہو گئے تو کیا؟ عجب حماقت ہے۔ بھوک موتوں کے آنکڑے جمع کرنے سے آخر ہاتھ کیا آئے گا؟ وہ چاہتا تھا کہ گھر لوٹ جائے۔ اپنی سوچ کو وہ الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا۔ یہ بھی کٹھن تھا۔ گیتا کو چھوڑ کر وہ کہیں نہ جا سکتا تھا۔ اس نے ایک مشاعرہ میں سنی ہوئی ایک نئی کویتا پر وچار کرنا شروع کردیا۔ ’کارخانو ں میں مشینوں کے دھڑکنے لگے دل!‘ کاش! وہ خود بھی کسی کارخانے کی مشین ہوتااور اس کا دل برابر دھڑکتا رہتا۔ اس کا دل تو ڈوب رہا تھا۔ اس کے قدم بری طرح بوجھل ہو رہے تھے۔ اس کا دماغ جواب دینے لگا۔ یہ ٹھیک تھا کہ کمیونزم کے بنا اس دیش کی تپِ دق کا علاج نہیں ہونے کا۔ پر وہ کدھر کا علاج ہے کہ بھوک موتوں کے آنکڑے جمع کرتے کرتے آدمی خود بھی بھوک کا شکار ہوجائے؟ ک۔۔۔ میو۔۔۔ نزم۔۔۔ وہ سوچتے ۔سوچتے لڑکھڑا رہا تھا۔ پر جیسے خود کامریڈ لینن اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اس کا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ ’کارخانوں میں مشینوں کے دھڑکنے لگے دل!‘ یعنی جب مشین بھی دل رکھتی ہے توآدمی اپنے دل کو کیوں ڈوبنے دے؟

مٹ میلے آکاش پربادل بالکل نہ تھے۔ ساتوں ساتھیوں کے جسم میں اتھاہ لاوا پگھل رہا تھا۔ گیتا بولی۔۔۔ ’’ہم اسی طرح چلتے رہے تو یہ دھوپ ہمیں آلوؤں کی طرح بھو ن ڈالے گی۔‘‘

ایک درخت کے نیچے پہنچ کر سب ساتھی گول دائرے میں بیٹھ گئے اور منافع خوروں کو سوسو گالیاں سنانے لگے۔ دھرتی کیا کرتی؟ ایک ایک کر کے یہ لوگ آئے اور گاؤں کے سب اناج نکال لے گئے۔ اس دورے میں دیکھے ہوئے دردناک چہرے ان کی آنکھوں میں پھر گئے۔ ننگ دھڑنگ بچے، مرد بھی سب چیتھڑوں میں، عورتیں بھی سب چیتھڑوں میں، لٹکتی ہوئی چھاتیوں سے لٹکے ہوئے بچے اد ھ موئے کیا جوان، کیا بڈھے، سب چوسی ہوئی گنڈیریوں کی طرح بے کار۔ ارہر نہیں تو دال کیسی؟ چاول نہیں تو بھات کیسا؟ سب اناج ۔چور منڈیوں میں جا پہنچا تھا۔ زندگی کی بوالعجبی دیکھیے کہ لوگ بے رحم اناج چوروں کی بجائے اپنے دیوتاؤں کو کوس رہے تھے۔ یہ ہاتھ کی ریکھاؤں سے قسمت کی پگڈنڈی ڈھونڈنے والے لوگ زندگی پر جھپٹنے کی اہلیت کھو بیٹھے تھے۔

سر کے نیچے بانھ کا تکیہ بنا کر گیتا ذرا پرے ہٹ کر لیٹ گئی۔ اس کی آنکھیں مچ گئیں۔ اس کے من میں اناج چور گھومنے لگے، جنھوں نے بنگال کے چھہ کڑور کسانوں کا گلا گھونٹنے کی سازش کی تھی۔ اس کے ہاتھ کسی اناج چور کی مرمت کرنے کو ترس رہے تھے۔ رات ہو جائے اور وہ اپنے چوہے دان کو دھو مانجھ کر رکھ دے، پھر سویرے پتہ چلے کہ موٹے موٹے چوہے اس میں پھنس گئے ہیں اور وہ انھیں زندہ زمین میں دفنا دے، یہ سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔

جعفری بولا۔۔۔ ’’کلکتے کے فٹ پاتھ پر بھوکے بنگال کی عزت بک رہی ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے!‘‘

امجد کہہ رہا تھا۔۔۔ ’’خود ماں باپ اپنی بیٹیوں کو بیچنے پر مجبور ہیں۔‘‘

علی اختر نے بھی اپنا راگ چھیڑدیا۔۔۔ ’’دس دس، بیس بیس آنے میں جوان لڑکیاں بیسواؤں کے ہاتھ بک جائیں، غضب ہو گیاغضب!‘‘

بھوشن نے کہا۔۔۔ ’’اب تک بیس ہزار کنواریاں بہو بازار کی رانیاں بن چکی ہیں۔ تعجب ہے!‘‘

پراشر نے اپنی میگھ گمبھیر آواز میں کہا۔۔۔ ’’یہ کنواریاں بک نہ جاتی تو فٹ پاتھ پر بھوک کا شکار ہو جاتیں۔‘‘

کپور اب تک چپ تھا۔ بولا۔۔۔ ’’بھوک کی باڑھ میں یہ سب کنواریاں ڈوب گئیں! غضب ہوگیا!‘‘

گیتا سو رہی تھی۔ کپور نے اٹھ کر اس کے ماتھے کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔۔۔ ’’اٹھو گیتا، منزل پر پہنچنا تو ضروری ہے۔‘‘

گیتا کا انگ انگ دکھ رہا تھا۔ اس کے جی میں آیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کہے۔۔۔ تم لوگ آگے بڑھ جاؤ۔ مجھے یہیں پڑے پڑے مرجانے دو۔ میں نہیں چاہتی کوئی میری لاش کو شمشان بھومی میں لے جائے؛ میں نہیں چاہتی کوئی میری لاش قبروں میں دفنائے۔ کوئی بھوکا گدھ مجھے کھالے گا۔ پر اس کے ساتھی کب اسے چھوڑنے والے تھے؟

اپنی ساڑی کا پلّو اس نے کمر کے گرد کس کر باندھ لیا۔ بولی۔۔۔ ’’اب ہم سیدھی قطار میں چلیں گے برابر۔ برابر۔‘‘

بہت خوب سب ساتھی ایک سور میں بولے۔

تین ساتھی دائیں طرف، تین ساتھی بائیں طرف۔ بیچ میں گیتا، لال جھنڈا اٹھائے ہوئے۔ دائیں طرف ترتیب سے جعفری، امجداور علی اختر، اور بائیں طرف کپور، پراشر اور بھوشن۔ وہ کافی اونچی زمین پر پہنچ گئے تھے۔ سامنے کا گاؤں، جہاں انھیں پہنچنا تھا دور ہی سے نظر آنے لگا۔ سب کا حوصلہ نئے سرے سے قایم ہو گیا،جیسے سب نے چھاچھ کا ایک ایک گلاس چڑھا لیا ہو۔

سورج اب اتنا گرم نہ تھا کہ پھر سے ان کے شریر میں لاوہ پگھلنے لگے۔ چلتے چلتے سب ساتھی رک گئے۔ بائیں طرف ایک مور ناچ رہا تھا۔۔۔ بنگال کے دربھکش سے بے خبر! سب اسے دھیان سے دیکھنے لگے۔ کپور کو غصہ آگیا۔ حرام زادہ! کس طرح ناچ رہا ہے جیسے شراب پی رکھی ہو۔ سامنے مورنی بیٹھی ہے۔ پٹھا اسے خوش کرنے کے لیے یہ گر نہ جانے کس سے سیکھ آیا ہے؟ اس کے ہاتھ میں تیرکمان ہوتا تو پہلے ہی تیر سے وہ اس مور کو ختم کر ڈالتا۔ پھر اس کے وچاروں نے پلٹا کھایا۔ نہیں، نہیں، یہ تو ظلم ہوگا۔ اب وہ اس مور کو بتا دینا چاہتا تھا کہ کمیونزم کا سندیش موروں کے لیے بھی اتناہی ضروری ہے جتنا آدمیوں کے لیے، بلکہ کمیونسٹ سماج میں ایک مور بھی برابر کا حصے دار ہو سکے گا،دوسرے کلاوِدوں کے ساتھ مل کر وہ بھی کسی کلا بھون کی استھاپنا کر سکے گا۔ نہ جانے وہ کب سے ناچ رہا تھا؟ دیکھتے دیکھتے چمکیلا پنکھ سکڑ گیا۔

ساتوں ساتھی پھر اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے۔ سب نے رومال سے اپنا اپنا چہرہ پونچھ لیا تھا۔ گیتا نے اپنے بالوں میں کنگھی بھی کر لی تھی۔ کپور نے چور آنکھوں سے اس کی سیدھی مانگ کی طرف دیکھ کر کہا، ’’میں کہتا ہوں ہوائی جہاز سے نیچے دیکھنے پر گنگا بھی تو اسی طرح ایک روپہلی لکیر بن کر رہ جاتی ہوگی۔۔۔ گیتا کی مانگ کی طرح۔‘‘ اور اس پر سب ساتھی کھلکھلاکر ہنس پڑے۔

چلتے چلتے گیتا نے ایک بنگالی لوک گیت چھیڑ دیا۔۔۔ ’’کت منش گورومرے گیل جیشٹھی ماسِر جھڑے، او بھائی جیشٹھی ما سِر جھڑے!‘‘ یعنی کتنے آدمی اور پشو مر گئے، جیشٹھ ماس کے طوفان میں!

پاس سے کپور نے اس گیت کو اٹھا لیا اور دھیرے دھیرے سب ساتھی گیتا کے ساتھ شامل ہوگئے۔۔۔ ’’کتو منش گورو مرے گیلو جیشٹھی ماسِرجھڑے او بھائی، جیشٹھی ماسِرجھڑے!‘‘ آج انھوں نے آکاش میں جو آگ برستی دیکھی تھی، اس سے تو کہیں اچھا ہوگا کہ جیشٹھ مہینہ کا طوفان، کپور گیتا کی مسکراہٹ کو دعوت دینا چاہتا تھا، لیکن یہ مسکراہٹ اس موت کے طوفان کا سامناکرتے کرتے اپنی سب مہک کھو بیٹھی تھی وہ مہک جو لاہور کے انڈیا کافی ہاؤس کے فضا میں کپور کی وجود کو گدگداتی رہتی تھی۔

جعفری بولا۔۔۔ ’’کپور کی کہانی ’کافی ہاؤس کی ایک شام‘ مجھے بہت پسند ہے۔‘‘

گیتا کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے پھر کنواری مسکان تھرک اٹھی۔ بولی۔۔۔ ’’کامریڈ جعفری کے ساتھ میں بھی متفق ہوں، کپور! ’کافی ہاؤس کی ایک شام‘ میں تم نے مجھے اروشی بنادیا۔۔۔ ہاں تو میں پوچھتی ہوں تمھاراقلم کافی ہاؤس سے باہر کب نکلے گا؟‘‘

کپور بولا۔۔۔ ’’میری نئی کہانی کا نام ہوگا۔۔۔ لاش!‘‘

’’جی ہاں، لاش!‘‘

گیتا ذرا دیر سے چونکی۔۔۔ ’’کیسی لاش؟‘‘

کپور نے بڑی گمبھیرتا سے کہا۔۔۔ ’’جو نہ جلائی گئی، نہ دفنائی گئی!‘‘

’’ضرور لکھو، کپور اور میں اس کا بنگلہ ترجمہ کر نے کا وچن دیتی ہوں۔‘‘

’’پہلے ہی سے دھنیہ واد!‘‘

لاش کا دھیان آتے ہی گیتا کو پھر سارا واتاورن مردہ مانس کی بدبو سے بوجھل محسوس ہونے لگا اور ہوا بھی کرایے کی سوگ کرنے والوں کی طرح رسمی طور پر سائیں سائیں کیے جاتی تھی۔

دن ڈھل رہا تھا۔ سارا آکاش اداس اداس نظر آتا تھا۔۔۔ اداس اداس اور بے رنگ! جھاڑیاں خاموش تھیں۔۔۔ خاموش اور دل گیر۔

گاؤں قریب تھا۔ جھونپڑیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ پاس جانے پر معلوم ہوا کہ کئی بوڑھے درخت گاؤں کی تاریخ کے امانت دار ہیں۔

اس گاؤں میں ایک جلاہے نے آگے بڑھ کر اس قافلے کا سواگت کیا۔ ’’بنگال مر گیا تو کون زندہ رہے گا؟‘‘ سب ساتھیوں نے نعرہ لگایا۔

بڑے بڑے درختوں کے اس پار گاؤں کی مسجد بھی خاموش اور دل گیر تھی۔ سارے گاؤں پر نحوست برستی تھی۔ جلاہے نے ایک مریل سا بچہ اٹھا رکھا تھا۔ پتا چلا کہ یہاں زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی۔ انھوں نے مسجد کے سامنے جمع ہوکر یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ گاؤں کو چھوڑ کر باہر نہ جائیں گے۔

گیتا نے جلاہے کے سمجھ میں آنے لائق انداز میں اس کو دھیرج بندھایا اور پوچھا، ’’یہاں کتنی بھوک موتیں ہوئی ہیں، بابا؟‘‘

پتا چلا کہ صرف دس آدمی زندہ ہیں۔ آٹھ دوسرے آدمی اور دونوں یہ باپ بیٹا۔ وہ بھی جلد مر جائیں گے۔ اس نے بہت مشکل سے جواب دیا اور اب آنسوؤں کی باڑھ کو نہ روک سکا۔

گیتا نے کہا۔۔۔ ’’روتے کیوں ہو؟ ہم تو تمھارے سیوک ہیں، بابا!‘‘

کپور بولا۔۔۔ ’’اب جلدی کرو، گیتا۔‘‘

گیتا نے دھیرے سے کہا۔۔۔ ’’ہاں، کامریڈ، بس ابھی شروع کرتے ہیں۔‘‘

فیصلہ ہوا کہ پہلے زندہ لاشوں کا جائزہ لیا جائے۔ دوآدمی ستّرے بہتّرے معلوم ہوتے تھے، جیسے جونکوں نے ان کا سب خون چوس لیا ہو۔ ایک جھونپڑی میں بارہ برس کا ایک اناتھ چھوکرا دم توڑ رہا تھا۔ اس کے پاس ایک پڑوسن سیوا کو موجود تھی جواب اپنے گھر میں اکیلی رہ گئی تھی۔ یہی بڑھیا بیچ بیچ اٹھ کر ان ستّرے بہتّرے بڈھوں کے منھ میں پانی ٹپکا جاتی تھی۔ ایک جگہ پر ایک ننھا بچہ اپنی ماں کی چوسی ہوئی گٹھلیوں جیسی چھاتیوں کو برابر چوستا جا رہا تھا۔۔۔ اب اور ہمت کس میں تھی کہ ان بھیانک جھانکیوں میں الجھا رہتا۔

ساتوں ساتھیوں کا قافلہ اب قبرستان کی طرف چل پڑا۔ اپنا اپنا سامان سب نے جلاہے کی جھونپڑی میں چھوڑ دیا تھا۔ اپنے بچے کوگود میں اٹھائے وہ جلاہا اس قافلے کوراستہ دکھارہاتھا۔

گیتا نئی قبریں گنتی جاتی تھی اور کپور رجسٹر پر نمبر چڑھاتا جاتا تھا۔ اتنی محنت سے تو کوئی تاریخ کی گزری ہوئی صدیوں کو نہ گنتا ہوگا۔

قبرستان کے ساتھ ساتھ ایک دریابہہ رہا تھا۔ نئی قبریں ختم ہوتی نظر نہ آتی تھیں۔ وہ جلاہا ساتھ نہ ہوتا تو نئی اور پرانی قبرو ں میں کچھ مغالطہ بھی ہو سکتا تھا۔ پر اب تو کسی طرح کی بھو ل کی امید نہ تھی۔

’’یا اللہ!‘‘ جلاہا پیلی آنکھوں سے آکاش کی طرف دیکھ کر بولا۔ یہ اس کی بیوی کی قبر تھی۔ گیتا نے اس کو دھیرج بندھایا اور وہ ہانپتے ہوئے بیل کی طرح چل پڑا۔

اب تک گیتا ایک ایک قبر کے پاس پہنچ کر پوری ہوشیاری سے گنتی کے نمبر لکھتی جاتی تھی۔ اب اتنا صبر نہ تھا۔ اب وہ دور ہی سے گنتی کر لیتی۔ اب یہ بھی ضروری نہ رہ گیا تھا کہ ہر حالت میں جلاہے کی تصدیق کے بعد ہی گنتی کو ٹھیک سمجھا جائے۔ یہ پتا چل گیا تھا کہ باقی کاقبرستان صرف نئی قبروں کے سبب بڑھتا چلا گیا تھا۔

وہ جلاہا اجازت لے کر واپس چلا گیا۔ جاتے ہوئے وہ کہتا گیا کہ وہ اپنے قومی سیوکوں کے لیے تھوڑے دال بھا ت کا پربندھ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ موت تو آئے گی ہی کل نہیں تو پرسوں۔ زیادہ فکر تو آج کی تھی۔ اتیتھی ستکار تو ضروری ہے۔

ساتوں ساتھی آگے ہی آگے چلے جا رہے تھے۔ ایک دل دوز، خوفناک چیخ فضا میں گونج رہی تھی۔

اب وہ قبرستان کی انتم سیما پر پہنچ گئے تھے۔ یہ ایک کونا تھا۔۔۔ ٹھیک ساٹھ کا کون بنا ہوا تھا۔

سامنے ایک قبر پرسویت بالوں والی ایک بڑھیا بیٹھی تھی۔ گیتا بولی۔۔۔ ’’ہم شدھامرتیو کے آنکڑے پراپت کر رہے ہیں، ماں!‘‘

’’شدھامرتیو کے آنکڑے!‘‘ بڑھیا نے ایک گستاخ قہقہہ لگایا۔

’’جنتا کی لال پارٹی کی سیواہمارا آدرش ہے ماں!‘‘

’’لال پارٹی!‘‘ بڑھیا نے پھر گستاخ قہقہہ لگایا۔

’’ماں، ہنسو مت۔ ہم تو شدھ مرتیو کے آنکڑے پرا پت کر رہے ہیں۔ ہم نے جل پان بھی نہیں کیا۔ پگھلانے والی دھوپ بھی ہماری راہ نہ روک سکی۔ ہم یہ گنتی سماچار پتروں کو بھیجتے ہیں اور اناج کی گاڑیاں دیش کے کھاتے پیتے لوگوں سے کلکتے پہنچ رہی ہیں اور جگہ جگہ پر مفت لنگر کھولے جا رہے ہیں، ماں!‘‘

’’مفت لنگر!‘‘ بڑھیا نے پھر قہقہہ لگایا۔

’’ماں، ہنسو مت۔ ہم تو نئی قبریں گن رہے ہیں، ماں!‘‘

بڑھیا چپ ہوگئی۔ اس نے قہقہہ نہ لگایا۔ بولی۔۔۔ ’’گن لو قبریں،راج کنیا!‘‘

’’ہاں، ماں!‘‘

پتا چلا کہ قبروں سے دو گنی لاشیں دریا میں پھینکی جا چکی تھیں۔ اور ایک بات اور بھی تو تھی۔ اس قبر میں بڑھیا کے دو بیٹے پِلّوں کی طرح سوئے پڑے تھے۔ ان کے چار بیٹے اور بھی تھے، وہ بھی بھوک کے بیمار تھے۔ ایک دن وہ ایک ساتھ مر گئے۔ وہ ان کے لیے ایک بھی قبر نہ کھود سکی۔ ان ہاتھوں سے اس نے انھیں دریا میں پھینک دیا۔

گیتا بولی۔۔۔ ’’اس موت کا انت نہیں ہے سنسار میں، پر ہم بھی تو تمھاری سنتان ہیں، ماں!‘‘

اب وہ بڑھیا رو رہی تھی۔ اس کو دھیرج بندھانے کی شکتی گیتا میں تو نہ تھی۔ نہ جانے کتنے دنوں سے وہ اس قبر پر دھرنا دیے بیٹھی تھی، جیسے اب اس نے موت پر جھپٹنے کا ارادہ کر لیا ہو۔

قافلہ لوٹ پڑا۔ سامنے پچھم میں سورج غروب ہو رہا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی ایک خونی ہے اور ان گنت لوگوں کے خون سے ہا تھ رنگ کرچھِتج میں پناہ ڈھونڈ رہا ہے۔ گیتا نے مڑ کر اس بڑھیا کی اور نگاہ دوڑائی اور ایک بار پھر کلکتے کے فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے بھوک کے ماروں کی چیخ و پکار اس کے کانوں میں زندہ ہو اٹھی۔۔۔ سرو نیشے شدھا۔۔۔! آمار پوڑا کپال۔۔۔ ابھاگ کون دے کے جائے۔۔۔؟ پوچے مر۔۔۔! پوکا پوڑے مر۔۔۔! یعنی سروناش کرنے والی بھوک! ہمارا جلا ہوا بھاگیہ! ابھاگیہ کس اور جائے؟ سڑ کر مر!کیڑے پڑ، پڑکر مر۔۔۔! اور وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اس کے پیچھے کپور تھا، پھر پراشراور بھوشن، اور ان کے پیچھے علی اختر، امجد اور جعفری۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ ساتوں ساتھی اس بڑھیا کے ساتوں بیٹے تھے۔ جو دھرتی اور پانی کی قبروں سے اٹھ کر چلے جا رہے تھے، آگے ہی آگے، نئے پھوڑوں کی طرح ابھری ہوئی قبروں کے بیچوں بیچ!
دیوندر ستیارتھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از دیوندر ستیارتھی