عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور
مصنف : پیر انتظار حسین مصور
شہر کی چکا چوند روشنیوں سے دور، ایک بوسیدہ کرائے کے کمرے میں بیٹھا مصور اپنی پرانی ڈائری کو تک رہا تھا۔ ایک سال بیت چکا تھا، اس نے گھر جانے کے لیے لمحے گنے تھے اور خود سے وعدہ کیا تھا، "اس عید پر اپنوں سے ملاقات پکی ہے۔” مگر شہر کی بے رحم زندگی نے اس کے جمع کردہ سرمائے کو حادثوں کی نذر کر دیا تھا۔ عید کا چاند نظر آ چکا تھا، لیکن مصور کے ہاتھ خالی اور دل بوجھل تھا۔
وہ اپنے ہی خیالوں کے جزیرے میں گم تھا کہ اچانک ایک عورت پردے میں لپٹی کمرے کے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ اس کی آواز میں ایسی کرب ناکی تھی جو مصور کے وجود کو ہلا گئی۔ وہ کہنے لگی، "مصور! کیا تم تصویر کے جادوگر ہو؟ تو کیا تم بھوک کی تصویر بنا سکتے ہو؟ آج ہم نے پانی سے افطاری کی ہے۔ میرے یتیم بچوں نے افطار کے وقت کبھی کچھ نہیں کھایا۔ عید قریب ہے، کیا تم اپنے قلم اور کاغذ پر ان کے لیے خوبصورت کپڑوں کی تصویر بنا سکتے ہو؟ سنا ہے تم لفظوں کے جادوگر ہو، کوئی ایسا جادو کرو کہ میرے بچوں کو بھی عید کا احساس ہو۔”
مصور کے ہاتھ کانپ گئے۔ وہ تو خیالوں اور لفظوں کا مصور تھا، اس کے پاس رنگ کہاں تھے کہ وہ کینوس پر خوشیاں بکھیر دیتا؟ عورت کا سوال ایک تیر بن کر اس کے دل میں پیوست ہو گیا۔ وہ دیر تک خاموش رہا، پھر آہستہ سے اٹھا۔ اس نے اپنا وہ قلم اٹھایا جس سے وہ سال بھر سے گھر جانے کے خواب لکھ رہا تھا۔
اس نے عورت کے سامنے وہ تمام سکے رکھ دیے جو اس نے ایک سال کی محنت سے گھر جانے کے لیے جوڑ رکھے تھے۔ وہ بولا، "بہن! میں رنگوں والا مصور نہیں، لفظوں کا مصور ہوں۔ میں روٹی تو نہیں بنا سکتا، مگر میں نے آج اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت تصویر تخلیق کر لی ہے۔ میرا گھر جانے کا وعدہ تو ٹوٹ گیا، مگر آج تم نے میرے ان خالی لفظوں میں کسی کی مسکراہٹ بھر دی ہے۔ یہ چند سکے لے جاؤ، بچوں کے لیے کپڑے اور کھجوریں خرید لینا۔ یہی میرے فن کا اصل معاوضہ ہے۔”
عورت کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ چلی گئی تو مصور نے ایک کاغذ اٹھایا اور لکھا:
"لوگ کہتے ہیں میں خیالوں کا مصور ہوں، مگر آج میں نے سمجھ لیا کہ اصل مصوری تو انسان کی مسکراہٹ ہے۔ جس عید پر اپنوں سے ملنے کا وعدہ کیا تھا، وہ تو نہ نبھ سکا، لیکن اس ایک سال کی دوری کا یہ صلہ ملا کہ آج چند یتیم بچوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ میری عید اب کسی گاؤں کے راستے کی محتاج نہیں، میرے دل کی بستی میں خوشیوں کے دیپ جل اٹھے ہیں۔”
مصور کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ باہر چاند مسکرا رہا تھا۔ اس نے ایک سال بعد پہلی بار سکون کی سانس لی تھی۔ وہ جان چکا تھا کہ اصل عید تو وہ ہے جو دوسروں کے غم بانٹ کر منائی جائے۔
پیر انتظار حسین مصور








