آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری
کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
ایک اردو غزل از رشید حسرت
کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
دوست سب اچّھے، کسی کو آزمانے کا نہیں
ناز و عشوے کا تمہیں ہے اختیارِ کُل، مگر
جی کے بہلانے کا ہے، دل میں سمانے کا نہیں
ساری پونجی میں نے کر ڈالی تو ہے صرفِ علاج
سچ کہوں مجھ کو افاقہ ایک آنے کا نہیں
کس طرح کے کرب میں گزرے ہیں یہ پینتیس سال
گرچہ وعدہ تھا، اکیلے چھوڑ جانے کا نہیں
کیا ریاست ماں، کہ چھینے سب ذرائع رزق کے
کچھ وسیلہ اب تو روزی کے کمانے کا نہیں
تو نے بھائی! سر پہ تانا ہے تعلق سائباں
کیا کروں اب حوصلہ احسان اٹھانے کا نہیں
کب بکھر جائے نہیں معلوم، آندھی زور پر
گھونسلہ ہے چار تنکے، آشیانے کا نہیں
آج اک لڑکے کی حرکت پر مجھے کہنا پڑا
لاکھ بنتا ہو مگر اچّھے گھرانے کا نہیں
سب نے اپنی استطاعت کا لتاڑا ہے مجھے
پر صِلہ حسرتؔ وفاؤں کا، بتانے کا نہیں
رشید حسرتؔ کوئٹہ
۲۳ اپریل، ۲۰۱۶








