- Advertisement -

شہر نقشہ بنا ہے مقتل کا

ایک اردو غزل از سیدہ فرح شاہ

شہر نقشہ بنا ہے مقتل کا
ہو رہا ہے گمان جنگل کا

اور دل کی مراد بر آئی
ایک آنسو کہیں سے کیا ڈھلکا

دل کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے
کچھ بھروسہ نہیں ہے پاگل کا

مے کشی میں غرور اچھا نہیں
دیکھ، ساغر کو اور مت چھلکا

ہجر آنکھیں بھی لے اڑا میری
رنگ بھی اڑ گیا ہے کاجل کا

آج پھر سے غزل کہی تو فرح
بوجھ من کا ہوا ہے کچھ ہلکا

سیدہ فرح شاہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از سیدہ فرح شاہ