آپ کا سلاماردو تحاریرافتخار شاہدتحقیق و تنقیدساحل سلہری

افتخار شاہد کی غزل کا فکری و فنی تجزیہ

از ڈاکٹر ساحل سلہری

7مارچ 2026ء|سیالکوٹ
غزل اردو شاعری کی مقبول صنف ہے کسی بھی دور میں اس کی مقبولیت میں کمی نہ آئی۔ نظم کے متعددادوار گزرے ہیں۔ نظم تحریک کی صورت میں بھی تخلیق ہوئی۔ ترقی پسند شعرا نے نظم کو زیادہ فروغ دیا۔ حلقہ ارباب ذوق سے انسلاک رکھنے والے شعرا نے بھی زیادہ تر نظم ہی کو وسیلہء اظہار بنایا۔اس سے قبل دیکھیں تو اقبال کے زمانے میں بھی نظم کی روایت کو تقویت ملی۔ اقبال نظم کے بڑے شاعر تھے اس کے باوجود غزل کی مقبولیت کم نہ ہوئی۔ موجودہ دور میں آزاد نظم بلکہ نثری نظم کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ایسے وقت میں افتخار شاہد کا شعری مجموعہ” بامِ غزل” غزل گوئی کی صف میں ایک اہم اضافہ ہے۔ مجموعے کا عنوان دراصل ایک علامت ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اب غزل اپنے معیاراور اعتبار کے حوالے سے اتنی richہو چکی ہے کہ بام پر چاند کی صورت چڑھ آئی ہے۔ مطلب یہ کہ اردو غزل دلی دکنی سے لے کر میروسودا تک ،پھر غالب ومومن سے لے کرداغ وحسرت تک، اقبال وفیض ،ناصر وظفر اقبال سے ہوتی ہوئی عباس تابش تک اور اب افتخار شاہد تک زینہ زینہ چڑھ کر بام پر پہنچی ہے۔
افتخار شاہد کا شعری مجموعہ "بام غزل” منظر عام پر آنے کے بعد یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ افتخار شاہد موجودہ دور میں تخلیق پانے والی غزل کی روایت میں غزل پڑھنے ، غزل سنانے والا ایسا منفرد شاعر ہے جو غزل میں نئی گرہ لگاتا ہے۔ یہ غزل کہنے والا ،غزل تصنیف کرنے والا بے باک اور ہنر مند شاعر ہے۔ ان کے ہاں شعریت کا حسن ، غزل کا انداز ،غزلیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ افتخار شاہد انسان اور انسانیت سے محبت کرنے والا شاعر ہے۔ حیاتِ انسانی کے متعدد پہلو ان کی شاعری میں عیاں ہوتے ہیں۔ وہ معاصر حالات اور روزمرہ کی زندگی سے جڑا ہوالگتا ہے۔ اس نے معاشی اور معاشرتی ناہمواری کی بات کی ہے۔ عدل وانصاف ان کی شاعری کا محبوب موضوع ہے۔ انھوں نے سماجی مسائل کو حتی الامکان اجاگر کیا ہے۔ کہیں وہ علامتی انداز میں اربابِ اختیار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ وہ اپنے سماج میں جو کچھ دیکھتے ہیں من وعن بیان کر دیتے ہیں۔
افتخار شاہد کی غزلوں میں محبت اور حقیقت ہم آمیز دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے شعروں میں کہیں خوشی اور غم بغل گیر ہوتے نظر آتے ہیں کہیں زندگی اور موت کا فلسفہ ملتا ہے۔ ان کے ہاں وصال اور فراق کے معانی بدلے ہوئے ملتے ہیں۔ ان کی شاعری آفاقی نوعیت کی ہے اس میں ہر کسی کو اپنے احساسات کا عکس اور اپنی یادوں کی مہک محسوس ہوتی ہے ۔زندگی کی تلخیاں، محرومیاں ، مایوسیاں ، اداسیاں اور ناکامیاں بھی ملتی ہیں۔ نارسائی ان کی شاعری کا ایک اہم استعارہ ہے۔ فنی اعتبار سے افتخار شاہد بہت پختہ شاعر ہیں ان کے ہاں تراکیب ، تشبیہات اور استعاروں کا استعمال بہت خوبصورت ہے۔ وہ خواب کی سیڑھی بناتے ہیں، اشک کو آنکھ کی کھڑکی سے گراتے ہیں۔ شاخِ وصال کا پہلا بور جیسے استعارے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں زبان وبیان کااستعمال مناسب اور محتاط ہے یہ شعر دیکھیے:
ہم کسی دشت میں کر لیں گے بسیرا لیکن
آپ لگتے ہیں سمجھدار کہاں جائیں گے

افتخا شاہد کی چھوٹی اور بڑی دونوں بحر کی غزلوں میں مکمل ہنر مندی نظر آتی ہے۔ وہ غزل کے وقار اور موضوع کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
بامِ غزل پہ خواب کی دلہن اتاریے
حرفِ سخن کو یار کے ہونٹوں سے واریے

ترا جمال کسی روز دن میں دیکھوں گا
ابھی تو رات ہے اور تو دیا بنا ہوا ہے

افتخار شاہد کی ہوئی بات کو اس طرح گرہ لگاتے ہیں کہ وہ ایک دم نئی لگنے لگتی ہے۔
لذتِ وصل سے انکار بھی ہوسکتا ہے
دل ترے ہجر سے سرشار بھی ہو سکتا ہے

افتخار شاہد تخریبی عمل اور تخریب کاری کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ تعمیر وترقی اور معاشرے میں مثبت رویوں کوفروغ دینےکی بات کرتے ہیں۔ وہ ایک مہذب معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں امن ،سکون اور خوشحالی ہو۔ ہر شے اپنے اپنے دائرے میں بہہ رہی ہو۔ وہ زندگی میں ایک خاص ترتیب وتوازن چاہتے ہیں۔ وہ انسانی عزت واحترام کو مقدم جانتے ہیں۔
تخریب کے کالے ملبے سے
تعمیر اٹھا کچھ بات بنے

ان کے ہاں آنکھ کی کھڑکی ، خواب کی سیڑھی ، احتیاط کی ٹہنی ، آسماں کی ہتھیلی ، نصب کی تھالی، ریشمی جھولی ، یاد کی گٹھڑی اور شعر ڈالی جیسی خوبصورت علامتیں ملتی ہیں:
پھر یوں ہوا کہ جھیل نے آغوش کھول دی
اک چاند آسماں کی ہتھیلی سے گر پڑا

افتخار شاہد کی غزل میں شعریت کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:
رات بھر آنکھ میں خوابوں کا دھواں ہوتا ہے
پھر کہیں جا کے مرا اشک رواں ہوتا ہے

بات کرنے کے لیے لفظ ضروری تو نہیں
حال آنکھوں کی زبانی بھی بیاں ہوتا ہے

تری صورت سے بھی دلکش ہے تکلم تیرا
مجھ کو ہر لحظہ محبت کا گماں ہوتا ہے۔

افتخا ر شاہد خزاؤں میں ہرےمیں ہرے والے اور محبت کا گماں رکھنے والے شیریں زباں شاعر ہیں۔ آدمی کو مشکل حالات میں بھی آسانی سے جینا چاہیئے کیوں کہ زندگی خدا کی عطا کی ہے۔ اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔ نہ ہی اپنی اداسی، نارسائی، ناکامی اور محرومی پر کسی کو موردالزام ٹھہرائیں:
ایسی مشکل ہے کی گزارا بھی نہیں کر سکتے
زندگی تجھ سے کنارا بھی نہیں کر سکتے

لوگ تو پوچھتے رہتے ہیں اداسی کا سبب
ہم تری سمت اشارہ بھی نہیں کر سکتے

افتخارشاہد کی شاعری میں محبت ، انسان دوستی، احساسات اور جذبے کی مہک ملتی ہے۔ وہ عصری شعور اور زندگی کی متنوع جہتیں رکھنے والے شاعر ہیں۔ افتخار شاہد نئے زاویے سے غزل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ محبت اور حقیقت ان کی غزل کا بنیادی حوالہ ہیں۔ ان کی غزل قاری کو نئے دریچوں تک لے جاتی ہے۔ ان کی غزل میں متعدد جمالیاتی اور فکری پہلو دکھائی دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ساحل سلہری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button