ثقافتی میل جول: روایت اور جدت کا سنگم
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
معاشرت ہمیشہ ارتقا کی راہوں پر چلتی رہی ہے۔ روایت اور جدت اس سفر کے دو لازمی پہلو ہیں۔ روایت ہمیں ہماری جڑوں سے جوڑتی ہے، جبکہ جدت ہمیں نئے امکانات تلاش کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان دونوں کا توازن ہی معاشرے کو ایک مضبوط اور منفرد شناخت بخشتا ہے۔ اگر روایت کو محض ماضی کی قید سمجھا جائے اور جدت کو اندھی تقلید کے مترادف قرار دیا جائے تو معاشرہ اپنی سمت کھو بیٹھتا ہے۔ لیکن جب یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں تو ایک نیا فکری اور جمالیاتی رنگ ابھرتا ہے جو معاشرے کو زندہ اور پُرجوش رکھتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی ثقافت صرف ایک زبان یا خطے تک محدود نہیں بلکہ مختلف رنگوں اور روایتوں کا حسین امتزاج ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتون اور سرائیکی روایتیں اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی لوک کہانیاں، گلگت بلتستان کا کوہستانی ورثہ اور چترال کی مخصوص موسیقی اس کثرت میں وحدت کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ یہ سب روایات ہمیں اپنی جڑوں سے باندھ کر رکھتی ہیں۔ ہر خطے میں دستکاری، مقامی لباس، زبانیں اور تہوار وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتے۔
دوسری طرف، نوجوان نسل دنیا بھر کے میل جول، ٹیکنالوجی اور جدید رجحانات سے متاثر ہو رہی ہے۔ وہ اپنی روایت کو ترک نہیں کرنا چاہتے، بلکہ اسے نئے رنگ اور انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں روایت اور جدت کا سنگم حقیقت میں بدلتا ہے۔
ثقافتی ہم آہنگی کی سب سے روشن مثال قوالی ہے۔ نصرت فتح علی خان اور ان کے بعد کے فنکاروں نے اس روحانی روایت کو جدید سازوں اور عالمی انداز کے ساتھ پیش کیا، جس نے اسے دنیا بھر میں مقبول بنایا۔ اسی طرح آج کے ڈیزائنرز سندھی کڑھائی، بلوچی کٹ ورک اور کشمیری شال کو جدید فیشن میں ڈھال کر بین الاقوامی منڈی تک لے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف روایت کو نئی زندگی ملی بلکہ معاشی مواقع بھی پیدا ہوئے۔
یہ سب تبھی ممکن ہے جب ریاستی سطح پر واضح اور مؤثر ثقافتی پالیسی موجود ہو۔ پاکستان کو ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جو صوبوں اور خطوں کی الگ شناخت کا احترام کرے اور سب کو ایک قومی دھاگے میں پروئے۔ اس میں دستکاروں کے لیے سہولیات، فنون لطیفہ کی ترقی کے ادارے اور عالمی سطح پر پاکستانی ثقافت کو متعارف کرانے کے اقدامات شامل ہوں۔ حکومت اگر مقامی فنکاروں کو مالی اور تعلیمی مدد فراہم کرے تو روایتیں مضبوط ہوں گی اور پاکستان اپنی ثقافتی دولت کو دنیا کے سامنے ایک پُرکشش انداز میں پیش کر سکے گا۔
تعلیمی نصاب میں بھی ثقافت کی شمولیت ناگزیر ہے۔ صرف مغربی ادب یا سائنسی مضامین پڑھانے سے طلبہ اپنی تہذیبی جڑوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ نصاب میں پاکستانی زبانوں کا ادب، مقامی فنون اور روایتی علوم شامل کیے جائیں تاکہ نئی نسل اپنی شناخت پر فخر محسوس کرے۔ گلگت بلتستان کے بچے اپنی لوک کہانیاں پڑھیں، سندھ کے طلبہ اپنی موسیقی کی اہمیت جانیں اور بلوچستان کے بچے اپنی دستکاری کی تاریخ سے واقف ہوں۔ یہ محض تعلیم نہیں بلکہ اپنی جڑوں کی حفاظت بھی ہوگی اور روایت کو طاقت بنائے گی۔
پاکستان کے مختلف خطے اپنی روایات میں الگ الگ پہچان رکھتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے بھی ہیں۔ پنجاب کے میلوں، سندھ کی عرس کی محفلیں، بلوچستان کے لوک گیت، خیبر پختونخوا کی اتن رقص کی محفلیں، آزاد کشمیر کی لوک داستانیں اور گلگت بلتستان کے پامیری نغمے اگر ایک ثقافتی چھتری تلے جمع کر دیے جائیں تو ایک ایسا رنگین اور دلکش پاکستان سامنے آ سکتا ہے جو اپنی مثال آپ ہوگا۔
ثقافت جامد نہیں بلکہ مسلسل بہاؤ میں ہے۔ روایت اس بہاؤ کو جڑیں دیتی ہے اور جدت اس میں نئی شاخیں اگاتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ روایت اور جدت کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ رفیق سمجھا جائے۔ یہی رویہ ہمیں اپنی اصل سے جوڑے رکھے گا اور دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے قابل بنائے گا۔ جب ہم اپنی ثقافتی دولت کو نصاب، پالیسی اور سماجی زندگی کا حصہ بنا لیں گے تو یہ صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی ضمانت بھی بن جائے گی۔
یوسف صدیقی







