آپ کا سلاماردو غزلیاتسمیر شمسشعر و شاعری

جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا

دو غزلہ از قلم سمیرؔ شمس

جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا
زیست کا بوجھ اُٹھاؤں گا چلا جاؤں گا

ابھی بیٹھا ہُوں کمیں گاہ میں دشمن کے لیے
آخری تیر چلاؤں گا چلا جاؤں گا

زندگی سے ابھی تک نیم تعارف ہے مرا
کُچھ رہ و رسم بڑھاؤں گا چلا جاؤں گا

میری پہچان مری روح کے ہونے سے ہے
جسم اوقات میں لاؤں گا چلا جاؤں گا

مَیں جو مٹّی کے لبادے میں چھپایا گیا ہُوں
پل کے پل خاک اڑاؤں گا چلا جاؤں گا

ایک دن تیز ہواؤں میں دھُواں بن کے مَیں
کسی کے ہاتھ نہ آؤں گا چلا جاؤں گا

ایک زنجیر سے باندھی گئی ہر روح سمیرؔ
اپنے وعدے کو نبھاؤں گا چلا جاؤں گا

حالِ دل تُجھ کو بتاؤں گا چلا جاؤں گا

حالِ دل تُجھ کو بتاؤں گا چلا جاؤں گا
ایک دو شعر سناؤں گا چلا جاؤں گا

بزمِ جانان کو آدابِ غزل کیسے ہَو
اپنا دیوان اُٹھاؤں گا چلا جاؤں گا

مَیں تری قبر پہ روز آ کے چراغوں کی جگہ
روز اک خط کو جلاؤں گا چلا جاؤں گا

جاتے جاتے بھی کئی بار پکاروں گا تُجھے
آخری آس مٹاؤں گا چلا جاؤں گا

لاکھ دعویٰ کرے تَو چاہتوں کا لیکن مَیں
تیری باتوں میں نہ آؤں گا چلا جاؤں گا

جانے والے پلٹ آئیں یہ ضروری تَو نہیں
اب کے واپس نہیں آؤں گا ، چلا جاؤں گا

کسی دیوانے کی یہ بات نہیں ، جانِ سمیرؔ
کہہ رہا ہُوں ، چلا جاؤں گا ، چلا جاؤں گا

سمیرؔ شمس

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button