شادیوں پر فضول خرچی — روایت یا مصیبت؟
مصنف: نعمان علی بھٹی
ہمارے معاشرے میں شادی کو خوشی کا سب سے بڑا موقع سمجھا جاتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ خوشی اکثر ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ خاص طور پر جب بات آتی ہے فضول خرچی کی، تو ہم اس میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شادی کی خوشی کا تعلق لاکھوں روپے خرچ کرنے سے ہے؟
آج کل شادی بیاہ ایک سادہ تقریب کے بجائے ایک مقابلہ بن چکا ہے۔ کون زیادہ مہنگا ہال لے گا، کس کے کھانے میں زیادہ ڈشز ہوں گی، کس کا لباس زیادہ قیمتی ہوگا — یہی چیزیں اب شادی کا معیار بن گئی ہیں۔ اس دوڑ میں اکثر وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو مالی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوتے، مگر معاشرے کے دباؤ میں آ کر قرض لے کر بھی یہ سب کچھ کرتے ہیں۔
یہ فضول خرچی نہ صرف مالی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ نئے رشتے کی بنیاد کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جب ایک خاندان شادی کے لیے قرض لیتا ہے، تو اس کا بوجھ کئی سالوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوشیوں سے شروع ہونے والا رشتہ پریشانیوں میں گھر جاتا ہے۔
اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے، جہاں شادی کو نہایت سادہ اور بابرکت طریقے سے انجام دیا گیا۔ مگر آج ہم نے ان تعلیمات کو پس پشت ڈال کر نمود و نمائش کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فضول خرچی نے معاشرے میں ایک غلط معیار قائم کر دیا ہے۔ اگر کوئی سادگی سے شادی کرے تو لوگ اسے کم تر سمجھتے ہیں۔ یہی سوچ نوجوانوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہے، کیونکہ وہ شادی سے گھبرانے لگتے ہیں کہ کہیں وہ اس مہنگی رسم کو پورا نہ کر سکیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ شادی کا اصل مقصد دو انسانوں کا ایک خوبصورت بندھن میں بندھنا ہے، نہ کہ لوگوں کو متاثر کرنا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سادگی کو اپنائیں اور اس فضول خرچی کے کلچر کو ختم کریں۔
اگر ہم آج اس روایت کو بدلنے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف اپنی زندگی آسان بنائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کریں گے۔ کیونکہ اصل خوشی سادگی میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شادی ایک خوبصورت آغاز ہے، اسے بوجھ نہ بنائیں۔ فضول خرچی سے بچیں اور اس خوشی کو سادگی کے ساتھ منائیں، تاکہ یہ لمحہ واقعی یادگار بن سکے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی







