اردو غزلیاتشعر و شاعریشکیل بدایونی

کچھ جو انہیں مجھ سے

شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل

کچھ جو انہیں مجھ سے حجاب آ گیا

میری اُمیدوں پہ شباب آ گیا

آ گئی ہونٹوں پہ جنوں کی ہنسی

جب کوئی باحالِ خراب آ گیا

تیز خرامیِ محبت نہ پوچھ

آنکھ جھپکتے ہی شباب آ گیا

عشق کی بے گانہ روی کے نثار

حسن کو اندازِ عتاب آ گیا

اُٹھنے لگی پھر وہ نظر مست مست

دور پھر جامِ شراب آ گیا

دیکھئے تقدیر کا لکھا شکیل

لیجئے وہ خط کا جواب آ گیا

 

شکیلؔ بدایونی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button