اردو غزلیاتشعر و شاعریمحسن نقوی

دل جلا کر بھی دلربا نکلے

محسن نقوی کی اردو غزل

دل جلا کر بھی دلربا نکلے
میرے احباب کیا سے کیا نکلے

آپ کی جستجو میں دیوانے
چاند کی رہگزر پہ جا نکلے

سوزِ مستی ہی جب نہیں باقی
سازِ ہستی سے کیا صدا نکلے

دیکھیے کارواں کی خوش بختی
چند رہزن بھی رہنما نکلے

یوں تو پتھر ہزار تھے لیکن
چند گوہر ہی بے بہا نکلے

دل بھی گستاخ ہو چلا تھا بہت
شکر ہے آپ بے وفا نکلے

کس کی دہلیز پہ جھکیں محسنؔ
جتنے انساں تھے سب خدا نکلے

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button