آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

قومی یکجہتی اور اردو زبان

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

اردو زبان پاکستان کی روح ہے۔ یہ محض ایک بولی نہیں بلکہ ایک ایسی ڈور ہے جو مختلف صوبوں، نسلوں اور ثقافتوں کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر—سب کی الگ الگ مادری زبانیں ہیں، لیکن جب یہ سب ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں تو زبانِ اردو ان کے درمیان پُل کا کام کرتی ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس نے اردو کو قومی یکجہتی کی علامت بنایا۔

پاکستان کی بنیاد ہی ایک نظریے پر رکھی گئی تھی، اور اس نظریے کی تشہیر اور ترویج میں اردو زبان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ تحریکِ پاکستان کے جلسوں سے لے کر ادبی انجمنوں تک، ہر جگہ اردو نے قوم کو ایک آواز میں یکجا کیا۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی شاعری اور قائداعظم کی تقاریر اردو ہی میں تھیں، جنہوں نے عوام کے دلوں میں آگ لگا دی اور خواب کو حقیقت میں بدلنے کی ہمت دی۔ یوں اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تحریک کا جذبہ بن گئی۔

قومی یکجہتی کا مطلب ہے کہ قوم کے افراد اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے رہیں۔ اردو نے یہی کردار ادا کیا۔ ایک پنجابی، ایک سندھی، ایک بلوچی اور ایک پشتون جب اردو میں گفتگو کرتے ہیں تو وہ لسانی تقسیم سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔ زبان یہاں رکاوٹ نہیں بلکہ رابطہ بنتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اردو کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیتا ہے۔

مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اردو کو اس کا حق دیا؟ افسوس کہ نہیں۔ سرکاری اداروں اور تعلیمی نظام میں انگریزی نے وہ جگہ لے لی ہے جو اردو کا حق تھا۔ بچے اپنی مادری زبان اور قومی زبان کے بجائے انگریزی الفاظ میں اپنی پہچان ڈھونڈنے لگے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ قومی یکجہتی میں وہ مضبوطی پیدا نہیں ہو پا رہی جو اردو کے ذریعے ممکن تھی۔ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ سوچنے اور جینے کا ڈھنگ بھی دیتی ہے۔ جب ہم اپنی زبان سے دور ہوتے ہیں تو اپنی فکر اور شناخت سے بھی دور ہوتے ہیں۔

اسلام ہمیں اتحاد اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا” یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔ ہماری قومی زبان اردو بھی ایک رسی کی طرح ہے، جو ہمیں ایک ساتھ باندھتی ہے۔ اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو ہم میں تفرقہ بڑھتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی یکجہتی اور اردو زبان کا رشتہ ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تعلیمی پالیسی اور سرکاری نظام میں اردو کو وہ مقام دیں جس کی یہ مستحق ہے۔ میڈیا، عدلیہ، اور تعلیمی ادارے اگر اردو کو عملی طور پر اپنائیں تو قوم میں قربت بڑھے گی۔ نسلِ نو جب اپنی زبان میں علم حاصل کرے گی تو اس کی سوچ میں بھی خود اعتمادی پیدا ہوگی، اور یہ خود اعتمادی قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کرے گی۔

اردو ہماری مشترکہ میراث ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے غالب کو جنم دیا، اقبال کو آواز دی، فیض اور جالب کو جذبہ بخشا۔ یہ زبان ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے اور ہماری شناخت کا نشان ہے۔ قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا ہے تو اردو کو مضبوط کرنا ہوگا۔

محمد یوسف صدیقی 

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button