کسی بھی کام سے پہلے تُو استخارہ کر لے
اگر نہیں اچھا تو چپکے سے کنارہ کر لے
جو بدلیں لوگ یہاں خود کو بھی بدلنا آخر
نہیں تو اِس جہاں سے ہو سکے کنارہ کر لے
یہ شام بیت نہ ایسے ادھوری جائے تیری
ابھی تُو جا کے محبت کا اک نظارہ کر لے
سبھی کے ہوتے ہوئے اُس سے بات ہے مشکل گر
تُو آنکھوں سے ہی اُسے کوئی تو اشارہ کر لے
میں اب کے یوں تو محبت سے باغی ہوں پر میرے
یہ یار کہہ رہے ہیں عشق پھر دوبارہ کر لے
محمد نعیم








