آپ کا سلاماردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے

افتخار شاہد کی ایک غزل

دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے
رات کو رقص کیا ہجر منایا ہم نے

گھر بنانے کی تمنا تھی ادھوری ہی رہی
ایک نقشہ تو بہر حال بنایا ہم نے

روٹھنے والا کسی طور بھی مانا ہی نہیں
اس کو اک گیت کا مکھڑا بھی سنایا ہم نے

ایک دو چار سہی جھیل میں کنکر پھینکے
اپنے ہونے کا تو احساس دلایا ہم نے

یہ جو منصور ہیں ، تبریز ہیں مرتے ہی نہیں
کھال کھینچی بھی ، کبھی دار چڑھایا ہم نے

کتنا مشکل تھا فرشتے بھی گریزاں ہی رہے
یہ ترا بارِ امانت بھی اٹھایا ہم نے

افتخار شاھد

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button