اردو نظمڈاکٹر الیاس عاجزشعر و شاعری

یومِ محبت

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک اردو نظم

یومِ محبت
کہاں سے یہ آیا ہے یومِ محبت
ہے کس نے بنایا یہ یومِ محبت
حیاسے ہیں عاری ہوس کےہیں مارے
مناتے ہیں سب ہی جو یومِ محبت

بہن سےمحبت نہ ماں سے محبت
ہیں والد سے باغی جہاں سے محبت
محبت سناں سےنہ تیغ و سپرسے
ہے ان کوتو بس گُل فشاں سے محبت

بہن مانگتی ہےضرورت کی چیزیں
گلےپھاڑکے ہیں یہ کمرے میں چیخیں
بُلاٸے جوماں گرضرورت کےباعث
پکڑ کر ہیں گاڑی یہ باہر کو دوڑیں

یہ پھولوں کی مالا لیے پھر رہے ہیں
بُراٸی کی دلدل میں یہ گر رہے ہیں
قبیلےکی آنکھوں کا تارا بنیں گے
قبیلےکی نظروں سے جوگر رہے ہیں

مناتے ہیں ہر سال یومِ محبت
ہےکس نے بنایا یہ یومِ محبت

ڈاکٹر الیاس عاجز

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button