- Advertisement -

صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ

افتخار شاہد کی ایک غزل

صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ
تمام عمر رہے ہیں کسی سے شرمندہ

میں خود کو آج ذرا سا سنوار لیتا ہوں
کہ آئینے ہیں مری سادگی سے شرمندہ

ہماری چیخ سے ٹوٹی نہیں ہیں زنجیریں
یہی سبب ہے کہ ہم ہیں ہمی سے شرمندہ

ہم اپنی خاک جہاں میں اڑائے پھرتے ہیں
اے شہرِ یارتمہاری گلی سے شرمندہ

ہم اس صدی میں بھی منزل سے آشنا نہ ہوئے
یہ اور بات ھے پچھلی صدی سے شرمندہ

ہے میرے پاس یہ لُکنت زدہ زباں شاھد
اے میرے شوخ تری نغمگی سے شرمندہ

افتخار شاھد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Afsaana By Mariyam Tasleem Kiyani