وہ جدا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
کیا سے کیا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
دل کی نگری اچانک اجڑ سی گئی
حادثہ ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
جس کا دامن گناہوں سے تر تھا کبھی
پارسا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
تیری میری محبت کا چرچہ یوں ہی
جا بجا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
وہ جو واقف نہیں تھا غموں سے کبھی
آشنا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
ان کے دل میں محبت ہمارے لیے
معجزہ ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
ناز جس کی وفاؤں پہ تھا دوستو
بے وفا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
جانے کب، کس طرح، دل ہمارا صنم
آپ کا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
اس کی نظروں نے جانے کِیا کیا اثر
جو نہ تھا، ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
عشق کرنے کا سوچا نہیں تھا کبھی
با خدا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
کل تلک رہ زنی میں جو مشہور تھا
رہنما ہو گیا، دیکھتے دیکھتے
روبینہ شاد







