اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے
منزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے

اہل ستم پہ اہل ستم کا ستم نہ پوچھ
اک آستاں کے بدلے کئی آستاں جلے

فصل بہار میں جو نکالے گئے ندیم
ان کی بلا سے باغ جلے، باغباں جلے

مجبوریوں کا نام ہی شاید ہے بےکسی
نظروں کے سامنے بھی کئی آشیاں جلے

باقیؔ ستمگروں کی ادائے ستم نہ پوچھ
زنداں وہیں بنائے نشیمن جہاں جلے

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button