اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

رک گئی برسات، ساغر تھم گئے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

رک گئی برسات، ساغر تھم گئے
تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے

کیا سمجھ سکتے وہ اسرار چمن
جو چمن میں صورت شبنم گئے

ایک عالم سرنگوں پایا گیا
جس طرف ہم لے کے تیرا غم گئے

غم کے ہیں یا ضبط غم کے ترجماں
اشک جو پلکوں پہ آ کر تھم گئے

اس کے آگے کیا ہوا باقیؔ نہ پوچھ
بارگاہ حسن تک تو ہم گئے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button