”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی جاج
مدثر عباس کی ایک اردو تحریر
ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار ایک نابغۂ روزگار شخصیت ہے۔وہ بہ یک وقت ناول نگار ،افسانہ نگار اور شاعر ہے۔اُن کے کئی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن میں ”گرفت،آخری محبت،غزل کروٹ بدلتی ہے اور دیگر پشتو اُردو مجموعے شامل ہیں۔ ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار نے پشتوادب میں نئے ہئیتوں پر بھی طبع آزمائی کی ہے جن میں ہائیکو کو بڑی شہرت حاصل ہوئی ۔جیسے کہ وہ لکھتے ہیں:
ما ورته وې راځه چې مینه اوکړو
پنډ د خشاک یې کړو په سر وئېل یې
ته دۀ مړي ګیډې خبرې کوې
د دیدن لږې بهاني خو نۀ دې
وایې په ځان به زۀ پیریان راولم
بیا به د پیر بابا چکر ووهو
زۀ به ترې څنګه په خفګان اودۀ شم
راپاڅوې مې په خُله غږ نۀ کوې
راته غوږونو کښې بنګړي شړنګوي
ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار نے اُردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہےاور وہ اس وقت اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں اُردو ادبیات کے پروفیسر ہیں۔
”غزل کروٹ بدلتی ہے” ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار کا شعری مجموعہ ہے جو ۱۵ ستمبر ۲۰۲۰ء کو منظر عام پر آیاہے۔ہئیت کے لحاظ سے اس مجموعے میں نظموں کی بہ نسبت غزلوں کی تعداد زیادہ ہیں ۔ اظہار نے شاعری میں ایک نیا رنگ پیدا کیا ہےاور اظہار اپنے محبوب کو اظہار کرنا چاہتا ہے۔اس لیے تو وہ بلا جھجک کہتے ہیں :
اب خوشی کوئی بھی حاصل ہو تو دل روتا ہے
مجھ کو اس شہر کے لٹ جانے کا غم ہوتا ہے
میں اُسے پیار کے نذرانے تھما دہتا ہوں
میری دھرتی میں جو نفرت کا شجر بوتا ہے(۱)۱۱۰
اظہار نے ہمیشہ شاعری میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اُن کی اُردو پشتو دونوں زبانوں کی شاعری میں ایک نیا رنگ پایا جاتا ہے۔اُنھوں نے قاری کے لیے شعر کو آسان اور سہل انداز میں بیان کیا ہے ۔اُن کے ہاں ثقیل الفاظ کی بہت کم ملتے ہیں۔مشکل شعر قاری کے دل میں گھر کرنے سے قاصر رہتا ہے۔مشکل شعر کے بارے میں پروفیسر گوہر نوید لکھتے ہیں:
اگر چہ مشکل پسندی ایک فن ہےاورجب غزل ثقیل ہوتی ہے اور اس پہ کھل
کہ بات نہیں ہوتی تو اُس سے غزل کی جامعیت واضح نہیں ہوتی ۔”
جب غزل پر کھول کر بات نہیں جاسکتی تو وہ غزل اپنا مقام کھو دیتا ہے مگر اظہار کی غزلوں میں جامعیت واضح طور پر نظر آتی ہےاور یہ جامعیت اُن کی شاعری میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ اس لیے تو اپنی غزل میں ٍکہتے ہیں:
اسی فریب میں شاید یہ زندگی گزرے
وہ آ کے درد کا رشتہ بحال کردے گا
میں نا اُمید نہیں ہوں مگر مرے نایاب
مرے یقیں کو وہ خواب و خیال کردے گا(۲)
اظہا ر محبوب سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور اُن کے لیے محبوب سب سے بڑھ کر ہے ۔وہ محبت میں جنون کی حد تک گیا ہےاور واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے اور محبوب کی ہر ادا پر دل وجان سے فدا ہے اس لیے پروفیسر گوہرنوید اظہار کے حوالے لکھتے ہیں:
”اُن کی محبوب کی ہر ادا پیاری ہے اور اُن کے نشست و برخاست سے کائنات تک متاثر دکھائی دیتے ہیں جب ان کا مزاج برہم ہوتا ہے تو کائنات کی نبض ڈوبتی ہے جب وہ رکھتا ہے تو گردشیں اس کا طواف کرنے لگتی ہیں اور جب وہ خراماں خراماں چلتا ہے تو اس کے ہراُٹھتے قدم میں آنکھیں بچھا دیتی ہے۔ جب اس کی نظر جم جاتی ہے تو فتنے سر اُٹھا لیتے ہیں۔”
وہ کبھی کبھی انجان بن جاتا ہے جیسے وہ اپنی ماضی بھول چکا ہے حتیٰ کے اپنی محبت کو بھی بھول چکا ہے اور یہ راز اُن کی ایک شعر میں فاش ہوچکا ہے۔
سفر میں ایسا نازک موڑ آیا
میں خود کو راستے میں چھوڑ آیا
جہاں اظہار میں تنہا کھڑا تھا
اوہ آئینہ بھی آخر توڑ آیا
اُن کی پشتو شاعری سے ماخذات:
ستا سزاګاني دربخښمه خو یو کار به کوې
زۀ چې د زړۀ زخمونه ښاېمه انګار به کوې
د خاموشۍ ګڼې معنې خله د زر پرانېزه
که اراده دې د الفت وې نو اظهار به کوې
…
د ځان نه ورک نۀ شمه یې ډیره ښکاره ولاړه
زۀ سمندر یمه او ته په کناره ولاړه
مدثر عباس








