اردو غزلیاتاظہر فراغشعر و شاعری

ہنسنے ہنسانے پڑھنے پڑھانے کی عمر ہے

اظہر فراغ کی ایک اردو غزل

ہنسنے ہنسانے پڑھنے پڑھانے کی عمر ہے

یہ عمر کب ہمارے کمانے کی عمر ہے

لے آئی چھت پہ کیوں مجھے بے وقت کی گھٹن

تیری تو خیر بام پہ آنے کی عمر ہے

تجھ سے بچھڑ کے بھی تجھے ملتا رہوں گا میں

مجھ سے طویل میرے زمانے کی عمر ہے

اولاد کی طرح ہے محبت کا مجھ پہ حق

جب تک کسی کا بوجھ اٹھانے کی عمر ہے

غربت کو کیوں نہ میں بھی شرارت کا نام دوں

دیوار و در پہ پھول بنانے کی عمر ہے

کوئی مضائقہ نہیں پیری کے عشق میں

ویسے بھی یہ ثواب کمانے کی عمر ہے

اظہر فراغ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button