- Advertisement -

شہزادے

ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم

شہزادے

ذہن میں عظمتِ اجداد کے قصے لے کر
اپنے تاریک گھروندوں کے خلا میں کھو جاؤ
مرمریں خوابوں کی پریوں سے لپٹ کر سو جاؤ
ابر پاروں پہ چلو، چاند ستاروں میں اڑو
یہی اجداد سے ورثہ میں ملا ہے تم کو
دور مغرب کی فضاؤں میں دہکتی ہوئی آگ
اہلِ سرمایہ کی آویزش باہم نہ سہی
جنگِ سرمایہ و محنت ہی سہی
دور مغرب میں ہے۔۔۔مشرق کی فضا میں تو نہیں
تم کو مغرب کے بکھیڑوں سے بھلا کیا لینا؟
تیرگی ختم ہوئی سرخ شعاعیں پھیلیں
دور مغرب کی فضاؤں میں ترانے گونجے
فتح جمہور کے ، انصاف کے، آزادی کے
ساحل شرق پہ گیسوں کا دھواں چھانے لگا
آگ برسانے لگے اجنبی توپوں کے دہن
خواب گاہوں کی چھتیں گرنے لگیں
اپنے بستر سے اُٹھو
نئے آقاؤں کی تعظیم کرو
اور ۔۔۔۔پھر اپنے گھروندوں کے خلا میں کھو جاؤ
تم بہت دیر۔۔۔۔۔بہت دیر تلک سوئے رہے

ساحر لدھیانوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم