- Advertisement -

ہیں سردیاں پلٹنے کو اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

طارق اقبال حاویؔ کی ایک اردو نظم

ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو
تنہا گزرے کتنے موسم
تم لوٹے نہ میرے ھمدم
جن پر ھم سنگ سنگ چلتے تھے
وہ راہیں ادھوری ھیں جاناں
والہانہ لپٹنے کو تم سے۔۔۔
میری بانہیں ادھوری ھیں جاناں
میری آنکھیں رستہ تکتی ہیں
اب پتھر بھی ہو سکتی ہیں
اب اِتنا مجھے ستاٶ نہ
تم جلدی لوٹ کے آٶ نا
ہیں سردیاں پلٹنے کو
اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

طارق اقبال حاوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از حمیدہ شاہین