آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتسمیرا ساجد

چراغِ وصل ابھی تک جلا نہیں پائی

سمیرا ساجد کی ایک اردو غزل

چراغِ وصل ابھی تک جلا نہیں پائی
ہوائے ہجر سے دامن چھڑا نہیں پائی

بچھڑ کے مجھ سے وہ مجھکو بھلا چکا لیکن
میں کیاکروں اسے اب تک بھلا نہیں پائی

یہ کیساعیب تھاتعبیر کے بھروسے کا
پرائے خواب سےآنکھیں لڑا نہیں پائی

میں سرد لہجے کو چپ چاپ سہہ کے لوٹ آئی
غبار دل کا اسے میں سنا نہیں پائی

دکھا رہا تھامجھے زخم جو ملے تھے اسے
میں اپنے زخم اسے پر دکھا نہیں پائی

سمیرا پیاس کو دفنا کے لوٹ آئی ہوں
کنویں کی سمت میں رستہ بنا نہی پائی

 

سمیرا ساجد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button