اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری

آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

آنکھوں میں حیا آ جاتی ہے ہونٹوں پہ تبسم لاتے ہیں
وہ مجھ پہ ستم جب کرتے ہیں تصویر کرم بن جاتے ہیں

اب آپ عنایت کرنے کی تکلیف ہی کیوں فرماتے ہیں
دن یوں بھی گزرنے ہی ٹھہرے دن یوں بھی گزر ہی جاتے ہیں

اللہ رے خس و خاشاک سے یہ ہنس ہنس کے چٹانوں کا کہنا
وہ طوفاں کو کیا سمجھیں گے جو طوفاں میں بہہ جاتے ہیں

اک سمت مسلسل امیدیں اک سمت مسلسل محرومی
کب تک یہ اٹھے بار ہستی شانے ہیں کہ ٹوٹے جاتے ہیں

اب ایسی کرم کی باتوں سے دبتی ہیں کہیں دل کی چوٹیں
تم جتنا مٹاتے جاتے ہو یہ نقش ابھرتے آتے ہیں

اس دور پریشانی میں کبھی وہ وقت بھی آتا ہے عالیؔ
کچھ دل بھی دھوکے کھاتا ہے کچھ وہ بھی کرم فرماتے ہیں

جمیل الدین عالی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button