- Advertisement -

جمعِ قرآن پر اعتراضات کا جائزہ

ایک اسلامی مضمون از ڈاکٹر حافظ خاور نعیم

قاری حنیف ڈار صاحب کی جتنی تحاریر اب تک میری نظر سے گزری ہیں، ان تمام میں ایک قدرِ مشترک ضرور اور بڑی شدت سے پائی گئی ہے کہ وہ اپنے سوا دیگر تمام نقادین و ماہرینِ فن کو بیوقوف سمجھتے ہیں، گویا کہ ان سے پہلے کوئی نقاد پیدا ہی نہیں ہوا، بالخصوص امت کے مسلم طائفہ منصورہ، محدثین پر ان کی خاص "نظرِ کرم” رہی ہے، کہ جن سے اکتسابِ فیض میں اہل تشیع سمیت پوری امت متفق رہی ہے۔ اور جن کی خدمات پر اگر تشکیک کا غبار صاف نہ کیا جائے تو اسلام کا جو سب سے پہلا عکس دھندلائے گا، وہ قرآن ہی ہے۔ حفاظتِ قرآن کی ذمہ داری اللہ پر ڈالتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے قرآن کی حفاظت کا انتظام غیر مرئی، غیر طبعی یا ما فوق الفطرت طریقے سے نہیں کیا ، اور اگر ایسا ہوتا تو قرآن کی حفاظت کے عقیدہ پر ہم صرف ایمان بالغیب ہی رکھ سکتے، اہلِ دنیا پر یہ بات ثابت کرنے کیلئے ہمارے پاس کوئی طبعی ثبوت نہ ہوتا۔ بلکہ صحابہ اور قیامت تک کے مسلمانوں کے ذریعے ہی اس کی حفاظت کا انتظام کیااور ابتداءاً جو ذرائع استعمال ہوئے، وہ بعینہ وہی ہیں جو کہ احادیث کی حفاظت وتدوین کیلئے استعمال کئے گئے، یعنی حفظ، تلاوت اور کتابت۔ اب کوئی تشکیک پیدا کرنا چاہے تو اس میں بھی کر سکتا ہے کہ چلیں نبی ﷺ تو معصوم ہوئے، انہوں نے جو قرآن پہنچایا، بالکل صحیح پہنچایا، مگر انہوں نے صرف صحابہ تک پہنچایا، جو کہ غیر معصوم تھے اور ان کے بعد پوری امت غیر معصوم ہے، لہذا ان کے ابلاغ میں غلطی کے امکانات کیوں نہیں؟ اگرچہ اس کے جوابات بھی علماء نے دے رکھے ہیں، مگر ہمارا مقصد صرف اتنا ہے کہ تشکیک پیدا کرنا، کوئی ایسا فن نہیں کہ جس پر بغلیں بجا کر خوش ہو لیا جائے، بلکہ اکثر اوقات یہ ناواقفیت، اور اگر واقفیت ہو تو کم فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے، جیسا کہ قاری صاحب کی اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے، جسے ہم اللہ کی توفیق سے بیان کریں گے، ان شآء اللہ۔ قاری صاحب کی تحریر کا لنک مندرجہ ذیل ہے؛
https://web.facebook.com/QariHanif/posts/10157464187336155

اعتراضات کا خلاصہ

1۔ صحابہ کا قرآن کو جمع کرنا، ایک افسانہ ہے۔اس پر دلالت کرنے والی روایات پایہِ ثبوت تک نہیں پہنچتیں۔
2۔ قرآن کو جمع کر کے ایک جلد میں پیش کرنے کی ذمہ داری نبی کریم ﷺ پر تھی۔
3۔ جب بات صحابہؓ تک پہنچی تو قرآن کی عصمت و حفاظت بھی مشکوک کر دی گئ کیونکہ ایک ھی ھستی معصوم اور اللہ کے ساتھ رابطے میں تھی ،بعد والے تو ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے رھے تو ایک دوسرے کے مرتب کردہ قرآن پر سوال کیوں نہیں اٹھائیں گے ؟
4۔ مکے کے 13 سال قرآن لکھنے والوں کو کیوں نہ بلوایا ؟ شوری کیوں نہ بلائی؟
5۔ پھر حضرت زید بن ثابت کیوں ؟ ان سے بڑے انصار کاتبین موجود تھے۔
6۔ زید تم پر کوئی تہمت بھی نہیں ،گویا باقی کاتبین وحی پر خلط ملط کی کوئی تمہت تھی لہذا ان پر ان دونوں کو اعتبار نہیں تھا۔
7۔ صرف انچاس آدمیوں کے شھید ھو جانے سے آخر قرآن کے گم ھو جانے کا خدشہ کیا ثابت کرتا ھے۔۔۔
8۔ -قرآن جمع کرنے والا انہیں نہ صرف ھڈیوں ،درختوں کی چھال ،چمڑے کے ٹکڑوں بلکہ سینوں سے بھی اکٹھا کر رھا ھے لہذا یہ کہنا کہ سب کو سارا قرآن حفظ بھی تھا اس کو غلط ثابت کرنا مقصود ھے ۔
9۔ نبئ کریم کوئی سرکاری آفیشل قرآن چھوڑ کر نہیں گئے تھے بلکہ وہ جگہ جگہ رُلتا پھر رھا تھا۔
10۔ اب مزید وار کیئے جا رھے ھیں تا کہ ثابت کیا جائے کہ سورتیں اور آیتیں خلفاء راشدین نے اپنی پسند کے مطابق ترتیب دیں ۔۔۔
11۔ راوی یہ مسالہ ڈالنا نہیں بھولے کہ عثمانؓ نے تین قریشی قاری زید بن ثابتؓ پر مسلط کر دیئے تھے۔۔۔

پہلے اعتراض کا جواب
قاری صاحب لکھتے ہیں؛
جبرائیل کے بعد انسانوں میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے پہلے حافظ تھے اور آپ نے اسے کتابی شکل میں ویسے ہی ترتیب دیا جس طرح یہ نازل ہوتا تھا ۔۔۔۔ اور اس کی ترتیب وحی کے وقت ھی جبرائیل بتا دیتے تھے کہ کس سورت میں کس جگہ رکھنا ھے لہذا ترتیبِ نزولی والے کسی قرآن کا کوئی وجود نہیں پایا جاتا تھا ،، ترتیب لوح محفوظ والا قرآن ھی ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر مرتب ھو رھا تھا ،جسے ھجرت کے بعد مدینہ منتقل کیا گیا اور مسجد نبوی میں اس جگہ ایک صندوقچے میں رکھ دیا گیا جہاں اسطوانہ مہاجرین ھے ، یہ اسطوانہ المصحف کہلاتا تھا جہاں اسے اس لئے رکھا گیا تھا کہ انصارِ مدینہ اس میں سے مکہ میں نازل ھونے والی 86 سورتوں کو اپنے اپنے مصحف میں درج کر لیں ،جب انصار کا کام مکمل ھوا تو نبئ کریمﷺ کے حکم کے مطابق تمام صحیفے نماز میں ھاتھ میں پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے کاؤنٹر چیک سے گزرے ،جس سے آج بھی لوگ استدلال کر کے جماعت میں امام کے پیچھے اپنے اپنے قرآن پکڑے حرم میں امامِ کعبہ کے پیچھے کھڑے نظر آتے ھیں ،، انصار کے لکھ لینے کے بعد یہ صحیفہ جسے ” الاُم ” یا الامام ” کہتے تھے اٹھا کر حضرت حفصہ کے حجرے میں منتقل کر دیا گیا جہاں سے منگوا کر تازہ وحی درج کی جاتی اور پھر واپس حجرہ ام المومنین میں واپس کر دیا جاتا ،، یہ قرآن نبی کا تیار کردہ نسخہ تھا
اس عبارت کا کوئی بھی شوشہ قرآن میں موجود نہیں، لہذا دو ہی صورتیں ہیں؛
1۔ یا تو قاری صاحب نے اسے خود گھڑا ہے۔ اگر عبید بن سباق اپنی پیدائش سے دو سال پہلے فوت ہو جانے والے صحابی سے روایت کرے تو اس کا اعتبار نہیں، تو قاری صاحب تو چودہ صدیاں گزار کر پیدا ہوئے، ان کی بات کا کیسے اعتبار کر لیا جائے۔
2۔ یا پھر قاری صاحب نے انہیں راویوں پر اعتبار کیا ہے، جن کی روایات اگر ان کے خود ساختہ نظرئیے کے مطابق نہ ہوں تو ان پر طنز و طعن کے نشتر چلاتے نہیں تھکتے۔ کسی بھی انصاف پسند آدمی کے لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ نہیں ہوتے۔ یا تو قاری صاحب وہ اصول واضح فرمائیں کہ جن کی بنا پر وہ روات کی بعض مرویات لے لیتے ہیں اور بعض کو ہدفِ طعن بناتے ہیں، یا پھر ہم یہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ سوائے خواہش و نفس پرستی کے، ان پاس کوئی اصول ہی نہیں۔

قاری صاحب نے لکھا کہ
بکری کے قرآن کھا جانے والی حدیث تو بالاجماع موضوع ھے
اگرچہ ہمیں بھی اس روایت کی صحت پر تحفظات ہیں، مگر ہمارے علم میں نہیں کہ قاری صاحب سے پہلےاس کے موضوع ہونے پر کسی نے دعوائے اجماع کیا ہو، اگر واقعی ایسا ہے تو اس کاثبوت قاری صاحب کے ذمہ ہے۔ اگر ثبوت نہیں تو قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ صرف نفس پرستی اور قلم کے زور پر بات کا بتنگڑ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

قاری صاحب لکھتے ہیں؛
ان روایات پہ اٹھنے والے سوالات

اس روایت میں عبید ابن السباق مجہول النسب راوی شامل ھے جس سے ابن شھاب زھری روایت کر رھا ھے ، ابن شہاب زھری جیسے شخص کا نام آتے ھی ھمارے محدثین کی آنکھوں پر تقدس کی پٹی چڑھ جاتی ھے اور اس کے بعد وہ جو کچھ ان کو کھلا دیتا ھے بلا حیل و حجت کھا لیتے ھیں۔۔۔۔۔قرآن جیسی خدا کی حفاظت میں محفوظ کتاب پر وار کرنے کے لئے ایک ایسے شخص کی بات پر اعتبار کر لینا جس کے باپ دادا پردادا کا نام و نسب کسی کو پتہ نہیں ، جس کی سوائے اس روایت کے جو کہ سرے سے جھوٹی اور من گھڑت ھے ، اور دوسری روایت جو مذی سے متعلق ھے جو کہ خلاف عقل ھے ،کوئی تیسری حدیث ذخیرہ حدیث میں نہیں پائی جاتی یہ شخص ھمیشہ اس سے روایت کرتا ھے جو اس کی پیدائش سے پہلے مر چکا ھوتا ھے ،،(عبید ابن السباق پیدائش 50 ھجری بقول امام بخاری در تاریخ کبیر – تاریخ وفات زید بن ثابتؓ 48 ھجری بقول ابن حجر بقلم خود )
1- عبید ابن سباق حضرت زید بن ثابتؓ کی وفات کے دو سال بعد پیدا ھوا ھے ، امام بخاری اگر ابن شھاب کے تقدس سے ھپناٹائز نہ ھوتے اور ابن شھاب سے آگے اس کے شیخ عبید ابنِ السباق کی حقیقت پر نظر مار لیتے تو اس کے داؤ میں کبھی نہ آتے ، جبکہ خود امام بخاری اپنی تاریخ کبیر میں اس راوی کی پیدائش 50 ھجری اور وفات 118 ھجری 68 سال کی عمر میں لکھتے ھیں تو پھر وہ اپنے پیدا ھونے سے دو سال پہلے 48 ھجری میں فوت ھو جانے والے صحابی سے روایت پر لازم چونک جاتے ،، عجیب تماشہ ھے کہ اس کے ترجمے میں لوگ یہ تو لکھ دیتے ھیں کہ اس نے ام المومنین سے بھی حدیث روایت کی ھے ، جبکہ ساری امھات المومنین اس کی پیدائش سے پہلے یا بچپن میں فوت ھو گئ تھیں ،، ابن عباس روایت کا ذکر ھے مگر اس کی کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں موجود نہیں جو ابن عباس سے مروی ھو یا امھات المومنین سے مروی ھو ، اس کے ترجمے میں یہ بڑے بڑے نام ڈالنے کا مقصد صرف اس کے شیئر کا گراف بلند کرنا مقصود ھے ، ورنہ بخاری کا راوی ھو اور ایک حدیث بیان کر کے غائب ھو جائے ، اور بعد والے اگر امام بخاری کی عظمت کی پٹی کا ایک کونا اٹھا کر ایک آنکھ سے بھی اس عبید کی حقیقت کی چھان بین کر لیتے تو کبھی قرآن پر ایک کاری وار کا ذریعہ نہ بنتے ۔
اول تو "مجہول النسب” کونسی جرح ہے؟ کس محدث نے اسے جرح قرار دیا ہے؟ نیز باپ دادا کا نام اگر نا معلوم ہو تو اس سے راوی کی اپنی ثقاہت میں کیا فرق پڑتا ہے؟ قاری حنیف صاحب کا نسب مجھے معلوم نہیں، تو کیا میں انہیں "مجہول النسب” قرار دے دوں؟ اگر کوئی کہے کہ قاری صاحب خود بتا سکتے ہیں، تو بوقتِ ضرورت راوی بھی خود بتا سکتے ہیں یا محدثین تصریح کر دیتے ہیں۔ مگر جیسے قاری صاحب کو اب تک اپنا نسب بتانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی، انہیں بھی نہیں پڑی ہو گی۔
دوم، یہ کہ قاری صاحب کا سارا ماتم محض اپنی لا علمی پر ہے ، کیونکہ محدثین نے عبید ابن السباق کا نسب بھی بیان کر رکھا ہے۔ حافظ ابن عبد البر کہتے ہیں؛
ابن السباق هذا عبيد روى عنه ابن شهاب وابنه سعيد بن عبيد بن السباق وهو من ثقات التابعين بالمدينة ومن أشرافهم من بني عبدالدار بن قصي ولم يذكره أهل النسب (التمہید 209/11)
ابن السباق، ان کا نام عبید ہے۔ ان سے ابن شہاب، اور ان کے اپنے بیٹے سعید بن عبید بن السباق روایت کرتے ہیں اور یہ مدینہ کے ثقہ تابعین اور بنی عبد الدار بن قصی کے معزز لوگوں میں سے ہیں۔ اہلِ نسب نے ان کا (ضرورت نہ ہونے کی وجہ سےزیادہ) ذکر نہیں کیا۔
اہل النسب کے مشہور امام خلیفہ بن خیاط کہتے ہیں؛
عبيد بن السباق وبنیہ بن وهب بن عثمان بن شيبة بن طلحة بن أبي طلحة بن عبد العزى بن عثمان بن عبد الدار بن قصي بن كلاب عمر توفي في فتنة الوليد بن يزيد والفتنة سنة ست وعشرين ومائة (طبقات ابن خیاط 242/1)
عبید بن السباق، اور ان کا بیٹا، (ان کا نسب یہ ہے) بن وهب بن عثمان بن شيبة بن طلحة بن أبي طلحة بن عبد العزى بن عثمان بن عبد الدار بن قصي بن كلاب۔ یہ فتنہ ولید بن یزید میں فوت ہوئے، اور یہ فتنہ 126ھ میں رونما ہوا۔

سوم یہ کہ عبید ابن السباق ، جرح و تعدیل کے حوالے سے بھی مجہول نہیں ہے، بلکہ انہیں مندرجہ ذیل محدثین نے بالصراحت ثقہ قرار دیا ہے؛
امام عجلی (معرفۃ الثقات 116/2)
امام ابن حبان(الثقات 133/5)
امام ابو نصر الکلاباذی (الہدایۃ والارشاد 498/2)
حافظ ابن عبد البر (التمہید 209/11)
علامہ ابن خلفون (اکمال تہذیب الکمال 91/9)
حافظ ابن حجر (تقریب التہذیب 377/1)
علامہ بوصیری (مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه 132/1)
علامہ ذہبی کہتے ہیں "وهو من علماء أهل المدينة.” (تاریخ الاسلام 977/2) یعنی یہ مدینہ کے علماء میں سے ہیں۔
مندرجہ ذیل محدثین اس کی روایت کی صحت کے قائل ہیں؛
امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان سے احتجاج کیا ہے۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں ان سے احتجاج کیا ہے (مسلم 1073)
امام ترمذی نے ان کی روایت کو حسن صحیح قرار دیا ہے (ترمذی 3103)
امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح 291 میں ان سے روایت لی ہے۔
امام حاکم نے ان کی روایت کو "صحيح على شرط الشيخين” قرار دیا ہے۔ (المستدرک 5004)
امام ابو بکر البزار نے اس کی روایت کو حسن قرار دیا ہے (مسند البزار 88/1)
اس کی ایک مرسل روایت کو امام بیہقی نے صحیح مرسل قرار دیا ہے (سنن الکبری للبیہقی 5752)
امام ابو علی الطوسی اس کی ایک روائت کے بارے میں کہتے ہیں "يُقَالُ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ (مستخرج الطوسی 331/1) یعنی اس حدیث کو حسن صحیح کہا گیا ہے۔
امام ابو نعیم اصبہانی نے اپنی المسند المستخرج علی صحیح المسلم 138/3 میں اس سے روایت لی ہے۔
امام ابو عوانہ نے بھی اپنی مستخرج 136/3 میں ان سے روایت لی ہے۔
کسی ایک محدث سے بھی ان کا مجہول یا معمولی سی جرح بھی ہمیں نہیں مل سکی۔

چہارم یہ کہ رہا قاری صاحب کا یہ فرمانا کہ
جس کی سوائے اس روایت کے جو کہ سرے سے جھوٹی اور من گھڑت ھے ، اور دوسری روایت جو مذی سے متعلق ھے جو کہ خلاف عقل ھے ،کوئی تیسری حدیث ذخیرہ حدیث میں نہیں پائی جاتی۔۔۔۔۔ عجیب تماشہ ھے کہ اس کے ترجمے میں لوگ یہ تو لکھ دیتے ھیں کہ اس نے ام المومنین سے بھی حدیث روایت کی ھے ، جبکہ ساری امھات المومنین اس کی پیدائش سے پہلے یا بچپن میں فوت ھو گئ تھیں ،، ابن عباس روایت کا ذکر ھے مگر اس کی کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں موجود نہیں جو ابن عباس سے مروی ھو یا امھات المومنین سے مروی ھو ، اس کے ترجمے میں یہ بڑے بڑے نام ڈالنے کا مقصد صرف اس کے شیئر کا گراف بلند کرنا مقصود ھے

1۔اس روایت کی صحت پر محدثین متفق ہیں، ہمیں کوئی محدث ایسے نہیں مل سکے، جنہوں نے اس حدیث کی صحت میں معمولی سا بھی شک کا اظہار کیا ہو، لہذا قاری صاحب کا اسے جھوٹی اور من گھڑت قرار دینا، بجائے خود بہت بڑا جھوٹ، دھوکہ اور بہتان ہے ۔ قاری صاحب کی اپنی علمی استعداد کتنی ہے؟ وہ تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں، مگر کسی فن کو نہ جانتے ہوئے بھی اس کے ماہرین سے ٹکر لینا، یہ ایک ایسے بڑے جگرے کا کام ہے، جس میں علم سے زیادہ جہالت بھری ہو، گویا کہ اپ سائیکل چلانا بھی نہیں جانتے اور تنقید فرما رہے ہوائی جہاز کے پائلٹس پر۔ پھر اس روایت کا دارو مدار عبید بن السباق پر ہے ہی نہیں، بلکہ خارجہ بن زید نے بھی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہی روایت بیان کر رکھی ہے۔ (تفسیر الطبری 48/1)۔ لہذا اس کا ملبہ عبید ابن السباق پر ڈالنا، قاری صاحب کے "رسوخ فی علم الحدیث” کا نتیجہ ہے۔

2۔ قاری صاحب نے جس روایت کو خلافِ عقل قرار دے رہے ہیں، ذرا وہ ملاحظہ فرمائیں؛
سیدنا سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں کہ مجھے مذی (prostate gland کی رطوبت، جو صرف مردوں میں پایا جاتا ہے اور بوقت شہوت، ایک سیال رطوبت خارج کرتا ہے) بہت زیادہ آتی تھی اور اسی وجہ سے غسل بھی بار بار کرنا پڑتا تھا۔ لہذا میں نے اس بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا "اس کیلئے تمہیں وضو ہی کافی ہے” میں نے پوچھا ” ا اللہ کے رسول ﷺ، یہ اگر میرے کپڑے کو لگ جائے؟” فرمایا”جہاں تو اسے لگا دیکھے، وہاں پانی کا ایک چلو لیکر چھڑک لے، یہی کافی ہے” (سنن ابی داؤد 210)
اب بتایا جائے کہ اس میں کیا بات خلافِ عقل ہے؟ کیا آدمی کو بار بار مذی نہیں آ سکتی؟ اگر آ سکتی ہے تو کیا اسے بار بار نہانے اور کپڑے دھونے کا حکم دے دیا جائے؟ کیا اس سے انسان مشقت میں نہیں پڑ جائیں گے؟ تو اگر آپ ﷺ نے امت کیلئے اسانی پیدا فرما دی، ضد اور ہٹ دھرمی کو اس سے چڑ ہو تو ہو، عقل کیوں اس سےچڑ کھائے؟

4۔ قاری صاحب کا یہ کہنا کہ عبید ابن السباق کی مندرجہ بالا دو روایتوں کے علاوہ کوئی تیسری حدیث ذخیرہ حدیث میں نہیں پائی جاتی ، اگر جھوٹ نہیں تو بہت بڑی جہالت ضرورہے۔ عبید بن السباق کی دیگر صحابہ کرام سے بطورِ نمونہ ایک ایک حدیث کا حوالہ درج زیل ہے؛
عبید بن السباق کی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت (مسلم 1073)
عبید بن السباق کی سیدعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت (مسلم 2105)
عبید بن السباق کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت (نسائی 4276)
عبید بن السباق کی سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت (سنن ابی داؤد 210)
عبید بن السباق کی سیدہ زینب بنت معاویہ (یا ابی معاویہ) رضی اللہ عنہا سے روایت (المعجم الکبیر 287/24)
عبید بن السباق کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت (شرح معانی الآثار 293/1)
اب اس جہالت کے بل بوتے پر اگر کوئی ماہرینِ فن یعنی محدثین پر طعن کرے تو عرفِ عام میں اسے دیوانگی ہی کہا جاتا ہے۔

5۔ رہا قاری صاحب کا یہ فرمانا کہ
یہ شخص ھمیشہ اس سے روایت کرتا ھے جو اس کی پیدائش سے پہلے مر چکا ھوتا ھے ،،(عبید ابن السباق پیدائش 50 ھجری بقول امام بخاری در تاریخ کبیر – تاریخ وفات زید بن ثابتؓ 48 ھجری بقول ابن حجر بقلم خود ) اس عبید ابن سباق کواس کی پیدائش سے دو سال پہلے رحمِ مادر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔۔۔ جبکہ خود امام بخاری اپنی تاریخ کبیر میں اس راوی کی پیدائش 50 ھجری اور وفات 118 ھجری 68 سال کی عمر میں لکھتے ھیں تو پھر وہ اپنے پیدا ھونے سے دو سال پہلے 48 ھجری میں فوت ھو جانے والے صحابی سے روایت پر لازم چونک جاتے
یہ بھی ایک بہت بڑا مغالطہ دیا قاری صاحب نے کہ امام بخاری نے التاریخ الکبیر میں لکھا ہے کہ عبید بن السباق 50ھ میں پیدا ہوا، جبکہ مذکورہ کتاب میں ایسا کچھ نہیں۔ التاریخ الکبیر 448/5 میں عبید ابن السباق کا پورا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے؛
عبيد بن السباق عن سهل بن حنيف وجويرية بنت الحارث رضي الله عنهما روى عنه أبو أمامة بن سهل والزهري وابنه حجازي
یعنی عبید ابن السباق، سیدنا سہل بن حنیف اور سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہما سے روایت کرتا ہے، اور اس سے أبو أمامة بن سهل اور الزهرياور اس کا بیٹا روایت کرتے ہیں۔ یہ حجازی تھے۔
عند الطلب ہم اس کا سکین بھی پیش کر دیں گے ان شآء اللہ۔ بلکہ ہمیں کسی کتاب میں بھی عبید ابن السباق کا سنِ میلاد نہیں ملا۔ قاری صاحب سے گزارش ہے کہ اگر وہ سچے ہیں تو اپنے دئیے گئے حوالے کا سکین لگائیں۔ اگر نہیں لگائیں گے تو ایک اور غلط بیانی آپ کے گلے کا ہار بننے والی ہے۔ اور جب سنِ پیدائش ہی ثابت نہیں تو عبید بن السباق کا صحابہ کرام سے سماع پر اعتراض بھی اپنی موت آپ مر گیا۔ اور صرف یہی نہیں، بلکہ احادیث کی اسناد میں تصریح ہے کہ یہ روایت عبید بن السباق نے خود سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں بخاری 6989، ترمذی 3103وغیرہما۔ اسی طرح دیگر صحابہ سے بھی ان کا سماع ثابت ہے۔ ہاں اس کے سنِ وفات کے بارے میں دو مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ علامہ صفدی کہتے ہیں؛
عبيد الله بن السباق الثقفي . روى عن زيد بن ثابت وجويرية أم المؤمنين وأسامة بن ويد وسهل بن حنيف وابن عباس وتوفي سنة تسعين للهجرةوروى له الجماعة (الوافی بالوفیات 2808/1)
عبيد الله بن السباق الثقفي . سیدنا زيد بن ثابت ، أم المؤمنين سیدہ جويرية ،سیدنا أسامة بن زيد،سیدنا سهل بن حنيف اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں۔ یہ 90ھ میں فوت ہوئے۔ محدثین کی ایک جماعت نے ان سے روایت لی ہے۔
علامہ ذہبی نے بھی انہیں 81ھ سے 90ھ کے درمیان فوت ہو جانے والوں میں ذکر کیا ہے۔ (تاریخ الاسلام 977/2)۔ اور یہی درست معلوم ہوتا ہے۔ جبکہ امام خلیفہ بن خیاط کے مطابق یہ 126ھ میں فوت ہوئے (طبقات ابن خیاط 242/1)۔ ان کی عمر کے متعلق بھی کوئی علم نہیں ہو سکا۔ مگر صحابہ سے ان کے سماع کا ثبوت انہی اسناد میں موجود ہے۔ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں بھی مختلف اقوال ہیں، جن میں سے قاری صاحب نے حسبِِ مطلب صرف ایک ہی نقل کیا ہے۔ ان کا سنِ وفا ت 45ھ یا 48ھ، یا 51ھ یا 55ھ منقول ہے (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم 1152/3)۔لہذا قاری صاحب کا یہ کہنا باطل ہوا کہ یہ اپنی پیدائش سے پہلے کے صحابہ سے روایت کرتا ہے۔ امید ہے کہ یہ سب حقائق پڑھ کر امام بخاری کو چونکانے کی بجائے قاری صاحب خود چونک جائیں گے، ان شاء اللہ

6۔ قاری صاحب نے کہا
جب پہلا راوی ھی جھوٹا نکل آیا تو باقی کے راوی سونے کے بن جائیں تب بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں رھتی ، جس پاسپورٹ پہ امریکہ ،برطانیہ ، کنیڈا ، آسٹریلیا کے ویزے لگے ھوں جب وہ پاسپورٹ ھی جعلی نکل آئے تو ویزے خود بخود جعلی ھو جاتے ھیں ،
تو کیا اگر سارے راوی سچے ہوں تو آپ مان جاتے ہیں؟ کس بیوقوف کو دھوکہ دیتے ہیں؟ آپ تو سچے راویوں پر ایسی ایسی تہمتیں لگانے والے ہیں کہ جن کا کوئی وجود ہی نہیں۔ لہذا سارے راوی اگر سچے بھی ہوں تو آپ جیسے لوگ صرف اپنے نفس کی ہی مانتے ہیں۔ ابھی جس راوی کو آپ جھوٹا کہہ رہے تھے، وہ تو سچا نکل آیا۔ اب دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ نیز اپنا پاسپورٹ بھی ذرا جیک کروائیں کہ نا اہل ہونے کے باوجود آپ کو کس نے ٹھیکہ دے رکھا ہے علمِ حدیث میں دخل اندازی کا؟

دوسرے اعتراض کا جواب
پھر لکھتے ہیں؛
قیامت اس حدیث نے ڈھائی ھے جسے امت قوی ترین حدیث ،صحیح ترین کتاب میں مانتی چلی آ رھی ھے
اور آگے بخاری شریف کی دوحدیثیں (4701 اور 4702) بیان کی ہیں۔ ان کا ترجمہ اوپر دیئے گئے لنک میں پڑھا جا سکتا ہے۔
پھر کہتے ہیں؛
ان روایات میں دیکھ لیجئے کہیں نبئ کریم ﷺ کا کوئی کردار پایا جاتا ھے قرآن کی حفاظت کے معاملے میں ؟
تو عرض ہے کہ آپ جیسے حضرات تو قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ کو سونپ کر انسانی کردار کے ملوث ہونے کی بالکل نفی کر دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی انسان ہی تھے۔ اگر کہا جائے کہ آپ ﷺ تو معصوم عن الخطاء تھے، تو عرض ہے کہ اول تو آپ نے یہ مان لیا کہ قرآن کی حفاظت میں انسانی کردار موجود ہے اور آج تک انسانوں کے ذریعے ہی اس کی حفاظت ہو رہی ہے۔ اللہ نے اس کی حفاظت کا بندوبست غیر مرئی و غیر طبعی یا ما فوق الفطرت طریقے سے نہیں کیا، ہاں البتہ غیبی تائید ضرور شاملِ حال رہی۔
دوم یہ کہ آپ ﷺ بھی تو انسان ہی تھے، معصوم عن الاثم ضرور تھے، مگر بشری بھول چوک تو آپ ﷺ سے بھی ہوئی، جس کا تذکرہ اللہ نے قرآن میں بھی کیا ہے۔ سورہ عبس کی ابتدائی آیات پڑھ لیں۔ بعض اوقا ت نماز میں آپ ﷺ کو غلطی لگ جاتی تھی، جس کی وجہ سے سجدہِ سہو مشروع ہوا۔ لہذا جب قرآن کی حفاظت میں انسانی کردار شامل ہے تو انسان کا کوئی بھی کردار لغزش اور بھول چوک سے مبرا نہیں۔ لہذا آپ جو اشکال صحابہ کی خطاؤں کا اس میں پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہی اشکال، معاذ اللہ ،قرآن کی حفاظت کے سلسلے میں آپ ﷺ کے کردار میں بھی کوئی پیدا کر سکتا ہے۔
سوم یہ کہ آپ ﷺ پر قرآن کی تعلیم وتربیت اور ابلاغ کی جو ذمہ داری تھی، آپ ﷺ کما حقہ اسے پورا فرما کر اس دنیا سے گئے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو قرآن سنایا، سکھایا، یاد کرایا، عمل کرایا، ان کی زندگیوں کو قرآن کی عملی تفسیر بنایا، ان سے قرآن لکھوایا۔ یہاں تک کہ قرآن پورے کا پورا صحابہ تک پہنچ گیا۔ اگرچہ کسی کو کم یاد تھا اور کسی کو زیادہ۔ مگر قرآن کے جمع کی ذمہ داری سے اللہ نے آپ ﷺ کو سبکدوش کر رکھا تھا، چاہے یہ جمع ،آپ ﷺ کے صدرِ مبارک میں بطورِ حفظ ہو یا بطورِ تالیف ہو،فرمایا؛
لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔ ان علینا جمعہ وقرآنہ۔ فاذا قراناہ فاتبع قرآنہ (القیامۃ 16۔18)
آپ ﷺ قران کو جلدی (یاد کرنے) کیلئے اپنی زبان مبارک کو حرکت نہ دیا کریں۔ اس کا جمع کرنا اور پڑھنا، ہمارے ذمہ ہے۔ تو جب ہم پڑھ لیں، تو آپ ﷺ اس کے پڑھنے کی پیروی فرمائیں۔
لہذا جب اس کے جمع کی ذمہ داری آپ ﷺ پر تھی ہی نہیں، تو ہم کون ہوتے ہیں زبردستی آپ ﷺ پر یہ ذمہ داری ڈالنے والے۔ اللہ کا کام تھا، جس سے چاہا کروا لیا، بلکہ بڑی خاص حکمت کے تحت اللہ نے اس کام کیلئے صحابہ کا انتخاب فرمایا۔ اور انہوں نے کر دکھایا۔ اب صحابہ کے بغض میں پیٹوں کیلئے اسے ہضم کرنا، کسی زہر کو ہضم کرنے سے کم نہیں۔
اگر کوئی کہے کہ ثبوت دیا جائے کہ آپ ﷺ قرآن کو یکجا کتابی صورت میں امت کو دے کر نہیں گئے، تو عرض ہے کہ زمانہ نبوت میں قرآن کا صحیفوں کی صورت میں ہونا (جس کیلئے قاری صاحب نے "چیتھڑے” کا لفظ استعمال کیا ہے) خود قرآن سے ہی ثابت ہے، ملاحظہ فرمائیں؛
رسول من الله يتلو صحفا مطهرة (البینۃ 2)
یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں، جو پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت فرماتے ہیں۔
کلا انھا تذکرۃ فمن شآء ذکرہ فی صحف مکرمۃ مرفوعۃ مطھرۃ (عبس 11-14)
ہر گز نہیں، بلکہ یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اس سے نصیحت لے سکتا ہے۔ یہ تو با عزت، پاک اور بلند و بالا صحیفوں (لوحِ محفوظ) میں ہے۔
لیجئے جناب، قرآن تو لوحِ محفوظ میں بھی صحیفوں کی صورت میں ہی ہے، جنہیں اپ نے "چیتھڑے” کہہ کر مذاق اڑایا ہے۔ اور صحیفوں کی صورت کو ہی "کتاب” کہا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے؛
انہ لقرآن کریم۔ فی کتاب مکنون (الواقعۃ 77-78)
بیشک یہ قرآن بہت عزت والا ہے، جو کہ ایک محفوظ کتاب میں ہے۔
اسی طرح سیدنا موسی علیہ السلام کو جو کتاب دی گئی، وہ بھی صحیفوں کی صورت میں ہی تھی (الاعلی 19)، بلکہ مختلف تختیوں پر لکھی ہوئی تھی (الاعراف 145، 150، 154)۔ اسی کو "کتاب” کہا گیا۔ ان تختیوں پر لکھے ہوئے کلام کا ایک ہی جلد میں یا ما بین الدفتین ہونے کا کوئی ثبوت ہمارے علم میں نہیں۔ اسی طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دی جانے والی کتاب بھی صحیفوں کی صورت میں تھی۔ لہذا کتاب کاصحیفوں، یا بقول قاری صاحب، چیتھڑوں کی صورت میں ہونے پر قرآن کو تو کوئی اعتراض نہیں، تو قاری صاحب کے اعتراض کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے۔ اب جس کا دعوی ہے کہ آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں یا ما بین الدفتین دیکر گئے، تو وہ اس کی دلیل دعوی کرنے والے کے ذمہ ہے۔
صحابہ نے تو صرف اتنا کام کیا ہے کہ ان صحیفوں کو ایک جلد یا ما بین الدفتین جمع کر دیا، اور اللہ نے اس کام کو اتنی مقبولیت بخشی کہ بعد میں آنے والی امت کو قرآن ، صحف کی بجائے ایک جلد کی صورت میں ملا اور انہوں نے اسی صورت کو قرآن کی اصلی صورت باور کر لیا، صحائف کی صورت کا ادراک ان کیلئے اجنبی بن گیا اور اتنا اجنبی ہوا کہ آج اس صورت پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تیسرے اعتراض کا جواب
قاری صاحب کہتے ہیں
جب بات صحابہؓ تک پہنچی تو قرآن کی عصمت و حفاظت بھی مشکوک کر دی گئ کیونکہ ایک ھی ھستی معصوم اور اللہ کے ساتھ رابطے میں تھی ،بعد والے تو ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے رھے تو ایک دوسرے کے مرتب کردہ قرآن پر سوال کیوں نہیں اٹھائیں گے ؟
کیسی طفلانہ بات ہے کہ اگر کوئی شاگرد، اپنے استاد کی تحاریر کو جمع کر کے ایک کتاب کی صورت میں شائع کر دے، تو وہ تحاریر مشکوک ہو جاتی ہیں۔ جس اللہ کے ساتھ آپ ﷺ کا رابطہ تھا، اس نے خود ہی آپ ﷺ اس کے جمع کی ذمہ داری سے سبکدوش کر رکھا تھا۔ ہاں البتہ ترتیب آپ ﷺ خود ہی بتاتے رہے اور اسی ترتیب کے مطابق صحابہ نے قرآن کو جمع کیا ۔ اس میں تغیر و تبدل کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ اور تقریباً تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہوا چاہے دیگر معاملات میں وہ آپس میں موافق یا مخالف تھے۔ (تنبیہ؛ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے موقف کی وضاحت، ایک تفصیلی تحریر کی متقاضی ہے، جسے ہم عند الضرورت بیان کریں گے، ان شآء اللہ)۔
نیز اگر بالفرض مان لیا جائے کہ آپ ﷺ نے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں صحابہ کو تھمایا، تو کیا قاری صاحب کا پیدا کردہ اعتراض رفع ہو جائے گا؟ نہیں جناب۔ اگر صحابہ، قرآن کے جمع کرنے میں خطاء و غلطی کا شکار ہو سکتے ہیں، تو اسے آگے پہنچانے میں کیوں نہیں ہو سکتے؟ اگر قرآن کے جمع کرنے میں معاذ اللہ صحابہ چھیڑ چھاڑ کے مرتکب ہو سکتے ہیں تو جمع کرنے کے بعد اس میں تغیر و تبدل کے مرتکب کیوں نہیں ہو سکتے؟ العیاذ باللہ۔ غرضیکہ صحابہ کے کردار میں زرا سی تشکیک بھی، آپ کو اسلام سے باہر جانے کا راستہ دکھا سکتی ہے۔ صحابہ کا جمعِ قرآن پر متفق ہو جانا ہی دلیل ہے کہ یہی سبیل المؤمنین ہے، اور سبیل المؤمنین سے اعراض کرنے والے کا انجام قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے؛
ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا (النسآء 115)
جو شخص، ہدایت واضح ہو جانے کے باوجود رسول ﷺ کی مخالفت کرے اور مؤمنوں کی راہ چھوڑ کر چلے تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے، جدھر وہ پھرے گا، اور اسے جہنم میں ڈالیں گے، جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن کی موجودہ صورت، نبوی صورت سے بہت مختلف تھی۔ مثلاً اس میں اعراب نہ تھے، آیات کا نشان نہ تھا، رسم الخط کافی مختلف تھا، رکوع ، پاروں اور منازل کا تصور نہ تھا، مگر آج یہ سب موجود ہے۔ تو کیا اس سب کو بھی قرآن سے چھیڑ چھاڑ کہا جائے گا؟ اگر نہیں تو صحابہ نے تو صرف قرآن کو ایک جلد میں جمع کیا ہے۔ اس پر اعتراض کیوں؟
رہا یہ اعتراض، کہ صحابہ تو ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے رہے، تو قرآن کی ہی نظر میں یہ ممکن الوقوع ہے۔ الحجرات 9 اس پر شاہد ہے۔لہذا اس پر اعتراض کرنا، اصلاً قرآن پر ہی اعتراض کرنا ہے۔ اگر کہا جائے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ،تو اس میں الفاظ، نیت اور آئیڈیالوجی کی حد تک ہم آپ کے ساتھ ہیں،مگر یہ دنیا آئیڈیالزم کے سہارے نہیں چل رہی ،حقائق ہمیشہ آئیڈیالوجی سے مختلف ہی رہے ہیں، مثلاً پوری دنیا متفق ہے کہ اٹامک وار نہیں ہونی چاہیئے، مگر یہ ہو چکی ہے،بلکہ اب بہت سے ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ لا قانونیت نہیں ہونی چاہیئے،مگر تھانے ہر جگہ موجود ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ کوئی جرم نہیں ہونا چاہیئے،مگر عدالتیں اور جیلیں دنیا کی ہر ریاست کا حصہ ہیں۔ کیونکہ یہ انسانوں کی دنیا ہے، فرشتوں کی نہیں۔ ان سے جرم، خطاء اور گناہ کا صدور ہونا، ان کی فطرت کا خاصہ ہے،جو کسی صورت بھی ان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا آپ کا یہ اعتراض ہی فطرتِ انسانیت کے خلاف ہے،تو اس میں کتنی معقولیت ہو سکتی ہے، بتانے کی ضرورت نہیں۔

چو تھے اعتراض کا جواب
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے مکے کے 13 سال قرآن لکھنے والوں کو کیوں نہ بلوایا ؟ کیا یہ قرآن کو جمع کرنے کا معاملہ ان دونوں کا ذاتی معاملہ تھا کہ جس میں کسی شوری کی ضرورت انہوں نے محسوس نہیں کی جبکہ اللہ کا صاف حکم موجود ھے کہ ” و امرھم شوری بینھم ،، تعجب کی بات نہیں کہ جن خلفاء کا ٹریک ریکارڈ یہ ھے کہ کوڑوں کی سزا بڑھانی ھو تو شوری بلاتے ھیں – وہ قرآن کو جمع کرنے کے فیصلے ایک کوٹھی میں چھپ چھپ کر کر رھے ھیں ؟
مکہ میں تیرہ سال قرآن لکھنے والوں کے نام تو ذرا با دلائل پیش فرمائیں۔ اس کے بعد ہم سے پوچھئے گا کہ انہیں کیوں نہیں بلایا گیا؟ نیز مدینہ کے کاتبین پر اگر آپ ﷺ نے اعتماد کیا تو آپ کو ان پر اعتماد کیوں نہیں؟ کیا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس کام کیلئے نا اہل تھے؟ یہ الزام بھی آپ کے نصیب مین ہی آیا ہے کہ حضراتِ شیخین نے کوٹھی میں چھپ چھپ کر فیصلہ کیا۔ حالانکہ روایت میں صرف یہ ذکر ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مشورہ دینے میں پیش پیش تھے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے قائل کیا تھا۔ چونکہ یہ حضرات اس کام میں پیش پیش تھے، لہذا روایت میں صرف انہی کا نام لیا گیا۔ وگرنہ روایت میں صاف ذکر ہے کہ لوگوں کے سینوں سے بھی قرآن اکٹھا کیا گیا۔ تو کیا سینوں سے وہ زبردستی نکلوا سکتے تھے؟ اگر نہیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہ بھی اس مشورہ میں شامل یا پھر کم از کم راضی تھے۔ نیز خلیفہ کا ہر معاملہ میں مشورہ کرنا کوئی ضروری امر نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ جس کام کو خلیفہ ضروری خیال کرے، بغیر مشورے کے بھی اسے نافذ کر سکتا ہے۔

پانچویں اعتراض کا جواب

پھر حضرت زید بن ثابت کیوں ؟ ان سے بڑے انصار کاتبین موجود تھے ،حضرت زید بن ثابت ان بچوں میں شامل تھے جن کو بدر کے قیدیوں نے لکھنا پڑھنا سکھایا تھا ،حضرت زید بن ثابت کو اسی قرآن کی رد و بدل اور جمع تفریق کی حدیث کو مشہور کرنے کے لئے کندھوں پہ بٹھایا گیا ھے جبکہ حقیقت یہ ھے کہ زید بن ثابتؓ کو تقریباً تین سال یعنی سات آٹھ ھجری کے بعد کتابتِ وحی کا موقع ملا ھے اس میں بھی ان کو کبھی کبھار ھی زحمت دی گئ ،ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور خود ابوبکرؓ اور عمرؓ جیسے حافظ قرآن کاتبین وحی دستیاب تھے ،حضرت ابئ ابن کعب رضی اللہ عنہ انصار میں سے کاتبِ وحی تھے جو حضرت زید سے بہت بڑے تھے
اگر قاری صاحب نے یہ صرف گپ ہانکی ہے تو ہمیں کوئی خاص اعتراض نہیں کہ شایداسی ایک فن میں انہوں نے مہارت پائی ہے۔ لیکن اگر اسے وہ حقیقت کے طور پر پیش فرما رہے ہیں تو ذرا ہمت کر کےاس پوری عبارت کو باحوالہ ثابت فرمائیں۔ نیز قرآن جمع کرتے وقت سیدنا زید بچے نہ تھے، بلکہ توانا جوان تھے۔ اور اگر ان کے علاوہ کوئی اور کاتب اس کام پر لگا دیا جاتا تو کیا قاری صاحب کی تسلی ہو جاتی؟ نہیں، بلکہ اگر شیخین بھی خود اس کام کو سر انجام دیتے تو قاری صاحب پھر بھی مطمئن نہ ہوتے، کیونکہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو بھی تو انہوں نے ہی حکم دیا۔ جب ان کے حکم پر اعتماد نہیں تو ان کے کام پر کیا ہو گا؟

چھٹے اعتراض کا جواب

-زید تم پر کوئی تہمت بھی نہیں ،گویا باقی کاتبین وحی پر خلط ملط کی کوئی تمہت تھی لہذا ان پر ان دونوں کو اعتبار نہیں تھا۔
یہاں تہمت سے مراد معاملات میں صادق و امین، ضابط و باکردار ہونا ہے۔ اور کسی کی تعریف کرنے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ تعریف کے قابل اوصاف صرف اسی میں پائے جاتے ہیں، اور کسی میں نہیں؟ قرآن نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ادریس علیہما السلام کو "صدیقا نبیا” یعنی سچا نبی قرار دیا (سورہ مریم) تو قاری صاحب کیا کہیں گے کہ باقی نبی معاذ اللہ کیا سچے نہ تھے؟ کیا کمال فہم پایا ہے جناب نے۔

ساتویں اعتراض کا جواب

صرف انچاس آدمیوں کے شھید ھو جانے سے آخر قرآن کے گم ھو جانے کا خدشہ کیا ثابت کرتا ھے کہ قرآن متفرق سینوں میں تھا ،انچاس سینوں میں موجود قرآن چلا گیا ، باقی کو بچانے کی سعی کرو
آپ کو کس نے کہا کہ صرف انچاس صحابہ شہید ہوئے؟ حافظ ابن حجر کے مطابق 700 سے زائد قراء صحابہ شہید ہوئے (فتح الباری 12/9) اور قرآن صرف ان کے سینوں میں ہی نہیں تھا، بلکہ اس دور میں صحابہ نے اپنے اپنے صحیفے رکھے ہوئے تھے، جو کہ ظاہر ہے کہ ان کے بعد ضائع ہو جاتے۔ لہذا ان سب کو اکٹھا کر کے ایک جگہ لکھ لیا گیا۔ تو آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟ بلکہ امت پر یہ ایک احسانِ عظیم ثابت ہوا۔

آٹھویں اعتراض کا جواب
slam
قرآن جمع کرنے والا انہیں نہ صرف ھڈیوں ،درختوں کی چھال ،چمڑے کے ٹکڑوں بلکہ سینوں سے بھی اکٹھا کر رھا ھے لہذا یہ کہنا کہ سب کو سارا قرآن حفظ بھی تھا اس کو غلط ثابت کرنا مقصود ھے
سب صحابہ کا پورے قرآن کو حفظ کرنا کیونکر ضروری سمجھا جائے؟ حالانکہ اللہ نے خود قرآن میں حکم دیا "فاقروا ما تیسر من القرآن” (المزمل، آخری آیت) یعنی جتنا تم آسانی سے پڑھ سکو، اتنا قرآن پڑھو” تو اپنی اپنی آسانی کے مطابق صحابہ نے قرآن سینوں یا صحیفوں میں محفوظ کر رکھا تھا اور اسے تلاوت کرتے رہتے تھے۔

نویں اعتراض کا جواب

اس بے سر و پا روایت کے ذریعے کہ جس کا راوی اس صحابی سے دو سال بعد پیدا ھوا ھے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ نبئ کریم کوئی سرکاری آفیشل قرآن چھوڑ کر نہیں گئے تھے بلکہ وہ جگہ جگہ رُلتا پھر رھا تھا
روایت تو الحمد للہ صحیح ثابت ہو چکی۔ صحابہ کے سینے ہی وہ محفوظ پناہ گاہیں تھیں، جن پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اعتماد کیا۔ مگر جس دل میں بغضِ صحابہ گھر کر چکا ہو، وہ یہ حقیقت اگر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو بھی ماننے سے انکاری ہی رہے گا۔ ہاں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو نسخہ تیار کروایا، اسے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سرکاری حیثیت سے آفیشلی چار دانگِ عالم میں پھیلا دیا۔ "جگہ جگہ رلنا” تو قاری صاحب کا خیالی تصور ہے، وگرنہ صحابہ کرام تو اپنے اپنے صحائف کو سینے سے لگائے بیٹھے تھے۔

دسویں اعتراض کا جواب

اب مزید وار کیئے جا رھے ھیں تا کہ ثابت کیا جائے کہ سورتیں اور آیتیں خلفاء راشدین نے اپنی پسند کے مطابق ترتیب دیں ،مثلاً ایک روایت میں کہلوایا گیا کہ جب سورہ توبہ کے آخر والی دو آیات ملیں تو عمؓر نے کہا کہ اگر یہ تین آیتیں ھوتیں تو ھم ان کی نئ سورت بنا دیتے مگر چونکہ یہ دو ھیں لہذا ان کو آخری نازل ھونے والی سورت میں رکھ دو ،، گویا عمر و ابوبکر بیٹھ کر آیتوں کی تعداد و ترتیب طے کر رھے تھے
تو عرض ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔ الشییخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع لکھتے ہیں؛
وما روي عن عمر وعثمان وزيد بن ثابت في الآيتين من آخر سورة التّوبة؛ فلا يثبت شيء منه من قبل الإسناد (المقدمات الأساسية في علوم القرآن، ص 129)
سورہِ توبہ کی آخری دو آیات کے متعلق سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے مرویات (جن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ اگر 3 آیات ہوتیں تو وہ اسے ایک سورت بنا دیتے) اسناد کے لحاظ سے ثابت نہیں۔
اس کے حاشیہ میں تحریر کرتے ہیں؛
(1) أخرج ذلك أبو بكر بن أبي داود في «كتاب المصاحف» (ص: 30) من طريق محمّد بن إسحاق، عن يحيى بن عبّاد، عن أبيه عبّاد بن عبد الله بن الزّبير، قال: أتى الحارث بن خزيمة بهاتين الآيتين من آخر سورة براءة: لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ 128 إلى قوله: رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ إلى عمر، فقال: من معك على هذا؟ قال: لا أدري والله، إلّا أنّي أشهد أنّي سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم ووعيتها وحفظتها، فقال عمر: وأنا أشهد لسمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثمّ قال: لو كانت ثلاث آيات لجعلتها سورة على حدة، فانظروا سورة من القرآن فألحقوهما فيها، فألحقتها في آخر براءة.هذا خبر لا يصحّ، ابن إسحاق مشهور بالتّدليس ولم يقل: (سمعت)، وعبّاد لم يدرك عمر.
وأخرج عمر بن شبّة في «تاريخه» (3/ 705، 999) وابن أبي داود كذلك (ص:
31) من طريق يحيى بن عبد الرّحمن بن حاطب، قال: أراد عمر أن يجمع القرآن، فقام في النّاس فقال: من كان تلقّى من رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا من القرآن فليأتنا به، وكانوا كتبوا ذلك في المصحف والألواح والعسب، وكان لا يقبل من أحد شيئا حتّى يشهد شهيدان، فقتل وهو يجمع ذلك، فقام عثمان بن عفّان رضي الله عنه فقال: من كان عنده من كتاب الله شيء فليأتنا به، وكان لا يقبل من ذلك شيئا حتّى يشهد عليه شهيدان، فجاء خزيمة بن ثابت فقال: إنّي قد رأيتكم تركتم آيتين لم تكتبوهما، قال: وما هما؟ قال: تلقّيت من رسول الله صلى الله عليه وسلم: لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ 128 إلى آخر السّورة، قال عثمان: وأنا أشهد أنّهما من عند الله، فأين ترى أن تجعلهما؟ قال: اختم بهما آخر ما نزل من القرآن، فختمت بهما براءة.
وهذا خبر رواه عمر بن طلحة بن علقمة اللّيثيّ، وهو ضعيف.
وأمّا الرّواية عن زيد بن ثابت؛ فأخرجها عمر بن شبّة في «تاريخه» (3/ 1001) من طريق إسماعيل بن جعفر، واللّفظ له، وابن جرير (1/ 26، 27) من طريق عبد العزيز الدّراورديّ، كلاهما عن عمارة بن غزيّة، عن ابن شهاب، عن خارجة بن زيد، عن زيد بن ثابت، رضي الله عنه، قال: عرضت المصحف فلم أجد فيه هذه الآية: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجالٌ صَدَقُوا ما عاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَما بَدَّلُوا تَبْدِيلًا، قال: فاستعرضت المهاجرين أسألهم عنها فلم أجدها مع أحد، ثمّ استعرضت الأنصار أسألهم عنها فلم أجدها مع أحد منهم، حتّى وجدتها مع خزيمة بن ثابت الأنصاريّ، فكتبتها، ثمّ عرضته مرّة أخرى، فلم أجد فيه هاتين الآيتين: لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ إلى آخر السّورة، قال: فاستعرضت المهاجرين أسألهم عنها فلم أجدها مع أحد منهم، ثمّ استعرضت الأنصار أسألهم عنها فلم أجدها مع أحد منهم، حتّى وجدتها مع رجل آخر يدعى خزيمة أيضا، من الأنصار، فأثبتّها في آخر براءة، قال زيد: ولو تمّت ثلاث آيات؛ لجعلتها سورة واحدة، ثمّ عرضته عرضة أخرى؛ فلم أجد فيه شيئا.
قلت: هذه رواية لا تصحّ من أجل تفرّد عمارة بن غزيّة عن الزّهريّ بهذا السّياق، وقصّة جمع القرآن محفوظة عن الزّهريّ من طريق المتقنين من أصحابه ليس فيها هذا الّذي ذكر عمارة، وليس عمارة من أصحاب الزّهريّ الّذين يعرفون بالرّواية عنه، وأخاف أن يكون لم يسمعه منه، وإنّما حدّثه بعض الضّعفاء بذلك، وإلّا فأين المتقنون من أصحاب الزّهريّ لم يرو أحد منهم شيئا كهذا؟
وأخرجها ابن عساكر في «تاريخه» (19/ 306) من طريق أبي القاسم البغويّ الحافظ، وبعنعنة عمارة عن الزّهريّ، ولم يسق لفظه إلّا بشيء من أوّله دلّ على أنّ الرّواية في الجمع الّذي وقع في زمن الصّدّيق.
وقال البغويّ: «وهذا عندي وهم من عمارة؛ لأنّ الثّقات رووه عن الزّهريّ عن عبيد بن السّبّاق، عن زيد».
قلت: وهذا إبانة عن عدم حفظ عمارة للحديث على وجهه، وابن السّبّاق لم يذكر عن زيد بن ثابت هذه الكلمة: (ولو تمّت ثلاث آيات؛ لجعلتها سورة واحدة)، ممّا أكّد الحكم بنكارتها.
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عباد بن عبد اللہ بن زبیر کے طریق میں محمد بن اسحاق بن یسار کا عنعنہ موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہے۔ نیز عباد نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ يحيى بن عبد الرّحمن بن حاطب کے طریق میں عمر بن طلحة بن علقمة اللّيثيّ ضعیف راوی ہے۔ اور تیسرے طریق میں عمارہ بن غزیہ اس روایت میں ضابط نہیں ہیں، کیونکہ اولاً تو امام زہری کے تلامذہ میں ان کا نام نہیں ملتا۔ ثانیاً ،امام زہری کے معروف تلامذہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب ان الفاظ کو روایت نہیں کرتے۔ ممکن ہے کہ زہری کی بجائے انہوں نے ضعفاء سے ہی یہ الفاظ اخذ کئے ہوں۔اگر نہیں تو زہری سے معروف اور کثرت سے روایت کرنے والوں نے یہ الفاظ کیوں نہیں بیان کئے؟ امام بغوی کہتے ہیں کہ میرے نزدیک عمارہ بن غزیہ اس روایت (سنداً و متناً) میں وہم کا شکار ہیں، کیوں کہ (ان سے زیادہ) ثقہ روات نے اسے زہری عن عبید بن السباق عن زید کی سند سے بیان کیا ہے۔

گیارہویں اعتراض کا جواب

حضرت عثمانؓ کے زمانے میں لکھے جانے والے قرآن کے فسانے میں راوی یہ مصالحہ ڈالنا نہیں بھولے کہ عثمانؓ نے تین قریشی قاری زید بن ثابتؓ پر مسلط کر دیئے تھے کہ ان کی نگرانی اورمشورے سے قرآن لکھا جائے اور جہاں اختلاف ھو وھاں قریشی قاریوں کو کہا گیا کہ زید کی رائے کو ایک طرف رکھتے ھوئے تم نے اپنے قریش کے لہجے کو ترجیح دینی ھے
اس پر صرف وہی شخص اعتراض کر سکتا ہے جو لسانیات کے علم سے نا واقف ہو۔ کیونکہ ایک ہی وقت میں ایک زبان کو بولنے والے مختلف علاقوں کے لوگوں کا لہجہ، تلفظ اور بہت سے مفاہیم و تراکیب، ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، جیسا کہ اردو اور پنجابی زبان میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے زبان بدل نہیں جاتی۔ قرآن کے سبعہ احرف میں اترنے کی تعبیرات میں سے ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ اسے اس وقت کے اہل عرب میں موجود تمام لہجوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ مگر چونکہ اس کا نزول لہجہِ قریشی میں ہوا ہے، تو اختلاف کے وقت اسے ہی اصل مانا جائے۔ مگر بعد میں لہجوں کے اس اختلاف کی وجہ سے نہ صرف تنازعات، بلکہ قرآن کے معانی و مفاہیم میں تغیر و تبدل کا ڈر پیدا ہوا، جسے سیدنا حذیفہ و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے محسوس کیا، اور ان کا ایسا محسوس کرنا غلط نہ تھا۔ پہلے صحیفوں میں بھی تحریف کی یہی وجہ ممکن ہے۔ تو انہوں نے تنزیل کے اصل لہجہ کو باقی رکھا، اور دیگر کو ختم کر دیا، اور یہ بھی امت پر احسانِ عظیم رہا کہ بعد والے لوگ لہجے میں اختلافات کا شکار نہ ہوئے۔

ڈاکٹر حافظ خاور نعیم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از شبیرنازش