اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر جلال آبادی

حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار

وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل

حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار

ساری دنیا کہے بلبل نہ کہے ہائے بہار

صبح گلگشت کو جاتے ہو کہ شرمائے بہار

کیا یہ مطلب ہے گلستاں سے نکل جائے بہار

منہ سے کچھ بھی دمِ رخصت نہ کہا بلبل نے

حرف صیاد نے اتنا تو سنا ہائے بہار

یہ بھی کچھ بات ہوئی گل ہنسے تم روٹھ گئے

اس پہ یہ ضد کہ ابھی خاک میں مل جائے بہار

تیرے قربان قمرؔ منہ سرِ گلزار نہ کھول

صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

قمر جلال آبادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button