آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ محمود جامؔیشعر و شاعری

مکتب ترا سرائے رئیس الامین ہے

شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل

مکتب ترا سرائے رئیس الامین ہے
تُو سربراہِ عالِمِ حق بینِ دین ہے

بازارِ عشق میں ہے تُو سالارِ رہ رُواں
دشتِ جنوں میں وضع تری آذرین ہے

خُجلَت کے باوجود گزرگاہِ عشق میں
جو اطمنانِ قلب ہے ذوقِ یقین ہے

آئینِ پاکباز مسلسل طلب دوام
لعنت وفورِ شوق عَلَی الکَاذِبِین ہے

اَنعَمتَ راز فاش ہے اہلِ نظر کے ہاں
تُو جس پہ گامزن ہے رہِ سافِلین ہے

اُس اختلاط روح کے دربارِ ناز میں
دامانِ مَن کَساد حزیں مُستَعین ہے

نَصِ صَرِیح تجھ پہ ہویدا نہ ہو سکی
تائیدِ حق کُشائشِ ضَم عازمین ہے

کیوں کر وَ لَم یَکُن لہ کا ترجمان ہو
جو داعیِ مکذب و شر مشرِکِین ہے

گم سُم ہو کون عالَمِ تَجرِیدِ فقر میں
اس کارِ لازوال کا تُو خاصگین ہے

وہ پَر تَوِ حقیقتِ کُل شاہدُ الُوُجُود
جس کا ترے وجود پہ سایہ مبین ہے

لائے ہو طشتِ سوز میں پتھر ابال کر
جامؔی رَقیق و رِنج ترا آفرین ہے

شاہ محمود جامؔی

post bar salamurdu

شاہ محمود جامؔی

نام ، راشد محمود - قلمی نام ، شاہ محمود جامؔی - قبیلہ ، بَنی ہاشم - تعلیم ، ایم اے اسلامیات - پیشہ ، درس و تدریس - تاریخ پیدائش ... 28.09.1980 - جائے پیدائش ... وڈیانوالہ سیالکوٹ پنجاب - ساکن ، وڈیانوالہ - سیالکوٹ پنجاب پاکستان -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button