اردو غزلیاتسعید خانشعر و شاعری

کیا جانئے عاشق ہے کہ محبوب کوئی ہے

سعید خان کی اردو غزل

کیا جانئے عاشق ہے کہ محبوب کوئی ہے
اِس دل کے در و بام سے منسوب کوئی ہے

آرام کہاں عشق و عبادت میں بھی دل کو
بت کوئی مقابل ہے تو مطلوب کوئی ہے

کیا کم ہے تعلق کے اس آشوب میں رہ کر
ہم جیسے خرابوں سے بھی منسوب کوئی ہے

پھر در پئے آزار ہیں فرقت کی ہوائیں
پھر بامِ شبِ ہجر پہ مصلوب کوئی ہے

تحریر بھی تصویر بنا دیتی ہے اس کی
ہاتھوں کی لکیروں سے جو منسوب کوئی ہے

پھرتے ہیں سعید اور سخنور یہاں کتنے
کب تجھ سا مگر صاحبِ اسلوب کوئی ہے

سعید خان 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button