اردو غزلیاتسعید خانشعر و شاعری

ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا

سعید خان کی اردو غزل

ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا
مجھ سے ملنا وہ ترا مل کے جدا ہو جانا

اک ندامت ہے ہنر ٹوٹ کے جڑ جانے کا
دل کو آیا نہ محبت میں فنا ہو جانا

شب کی مستی کو چھپائے گا سحر سے کیسے
اس کی انگڑائی کا خود موجِ صبا ہو جانا

تازگی عشق میں حیرت کی طلب کرتی ہے
حسن وہ ہے جسے آتا ہو نیا ہو جانا

وہ سبق دے ہمیں تسلیم و عبادت کا سعید
جس نے دیکھا ہو کسی بُت کا خدا ہو جانا

سعید خان

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button